89

عطائیوں اورغیررجسٹرڈلیبارٹریوں کی دوبارہ تحقیقات کاحکم

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)عدالت عالیہ نے صوبہ بھر میں جعلی ڈاکٹروں، عطائیوں اورغیررجسٹرڈ لیبارٹریوں وکلینکس سے متعلق دوبارہ انکوائری کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لوگ جعلی ڈگریاں لے کر ڈاکٹر بنے ہوئے ہیں اورگلی محلے میں لیبارٹریاں کھول رکھی ہیں جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے صوبے میں جعلی ڈاکٹر اورغیررجسٹرڈ لیبارٹریزو کلینکس وغیرہ سے متعلق دائر رٹ کی سماعت کی دوران سماعت ہیلتھ کئیر کمیشن اور ایف آئی اے کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ ایبٹ آباد،ڈی آئی خان اوربنوں میں کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں،جس پر جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے اور ہیلتھ کئیر کمیشن والے مل کر انکے خلاف کارروائی کریں اورایسی جگہوں کو سیل کریں جہاں غیررجسٹرڈ ڈاکٹر ہوں یا غیرمعیاری سہولیات ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں نے جعلی ڈگریاں لی ہوئی ہیں اور ڈاکٹر بن کر گلی گلی لیبارٹری کھولی ہوئی ہے ایک بیماری کے ٹیسٹ کیلئے جائیں تو وہاں دو بیماریاں اور آجاتی ہیں گزشتہ سماعت پرکارروائی نہ کر نے پر عدالت نے ایف آئی اے اور ہیلتھ کئیر کمیشن کے نمائندوں کی تنخواہ بند کردی تھی عدالت نے انکی تنخواہیں بحال کرتے ہوئے اگلی سماعت پر فریش انکوائری رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

Facebook Comments