124

گرم چشمہ اور کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر اور گیس پلانٹ کی تنصیب میں رکاوٹ اورغیر معمولی تاخیر ۔ یہ منصوبے سابقہ حکومت میں اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں تھے۔

چترال ( نمائندہ آوازچترال) سابق ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے کہ چترال کے معروف سیاحتی مقامات گرم چشمہ اور کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر اور گیس پلانٹ کی تنصیب میں رکاوٹ اورغیر معمولی تاخیر سے موجودہ حکومت کی چترال کے عوام کے مسائل سے عدم دلچسپی کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہ منصوبے سابقہ حکومت میں اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں تھے۔ کہ اقتدار کی تبدیلی آڑے آگئی۔ اس وقت سے ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ جبکہ یہ چترال کے عوام کے منصوبے ہیں۔ میڈیا سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے چترال کیلئے مجموعی طورپر 90ارب روپے کے منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ جن میں سے تقریبا 62ارب روپے لواری ٹنل اور گولین ہائیڈل کی تعمیر پر خرچ ہوئے۔ جبکہ بقیہ بجلی ٹرانسمیشن لائن، گیس پلانٹ اور روڈز کی تعمیر پر خرچ ہونے تھے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ گیس پلانٹ کیلئے زمین خریدنے کے باوجود منصوبوں پر کام اب تک رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال ایک نظر انداز شدہ ضلع بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں دور دور تک ترقی کے آثار نظر نہیں آتے۔ اور زندگی جمود کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ موجودہ حکومت کی چترال کے ساتھ امتیازی سلوک کے علاوہ خود مقامی لوگوں کی طرف سے اپنے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے نمایندے منتخب نہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض پارٹیاں انتخابات کو اسلام کی جنگ قرار دے کر مذہب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جبکہ یہ کوئی ایسا معرکہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی پارٹیوں کی مرکز نگاہ بھی اگر ترقیاتی منصوبے ہی ہیں۔ تو انتخابات کو صرف مذہب کے ساتھ جوڑ کر مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ وہ اپنی بساط کے مطابق چترال کی ترقی کیلئے کوششیں جار ی رکھیں گے۔ اور متذکرہ بالا منصوبے تعمیر ہو کے رہیں گے۔