131

ایک ماہ کے اندر کے پی ٹی اے کو فعال بنانے کا حکم

پشاور (آوازچترال رپورٹ)۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایک ماہ کے اندرخیبر پختونخوا ٹوارزم اتھارٹی (کے پی ٹی اے) کو مکمل فعال بنانے کی سختی سے ہدایت کی ہے جبکہ اس ماہ کے آخر تک جامع انٹگریٹڈ ٹوارزم پلان کو حتمی شکل دینے، محکمہ سیاحت میں کنسلٹنٹس کی جگہ ٹوارزم ایکسپرٹ ہائیر کرنے، ہر تحصیل میں ایک پلے گراؤنڈ کا قیام، کلچرل ری وائیول پلان پر کام شروع کرنے، سیاحتی مقامات میں فوڈ سٹریٹس، کالام ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام شروع کرنے، سیاحتی مقامات میں اسی سیزن ہوم سٹے منصوبہ بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے، تمام ریسٹ ہاؤسز کی آؤٹ سورسنگ، سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز،15 ایکسز روڈ کی فیزبیلٹی، اربا ب نیاز سٹیڈیم کی اگلے پی ایس ایل کیلئے تیاری، سیاحتی مقامات میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ و صفائی اور انڈر21 گیمز کیلئے تمام تر لوازمات سرانجام دینے کی بھی سختی سے ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے کہاہے کہ سیاحت کے فروغ کیلئے تمام اُمور مقررہ ٹائم لائن میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی ہے کہ سیاحتی مقامات جیسے کہ جھیل سیف الملوک، ماہو ڈنڈ، خانپور ڈیم، کمراٹ وغیر ہ میں پولی تھین بیگز کا خاتمہ، جیپ و دیگر گاڑیوں اور ورکشاپس کیلئے ان سیاحتی مقامات سے موزوں فاصلے پر جگہ کا تعین عمل میں لایا جائے تاکہ سیاحتی مقامات پر ماحول کو سیاحوں کیلئے صاف ستھرا رکھاجاسکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرانے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دریائے سوات میں مائننگ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ دریائے سوات کی چینلائزیشن کیلئے سروے عمل میں لائی جائے جبکہ دریائے سوات بیلٹ کی حفاظت کیلئے ماسٹر پلان بھی مرتب کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے غیر قانونی مائننگ پر متعلقہ علاقے کے مائننگ آفیسراور متعلقہ ٹھیکداروں کے خلاف قانونی کاروائی کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ دریائے سوات کے غیر قانونی مائننگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی انتھک محنت سے سیاحت کے شعبے میں پاکستان کو منفرد مقام ملا ہے جبکہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ پر مرکوز ہے۔صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کااُنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبے میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیاہے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر، وزیرزراعت و لائیو سٹاک محب اللہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بلدیات کامران بنگش، ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین سوات فضل حکیم خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی احمد حسین شاہ، چیف سیکرٹری کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، سیکرٹری ٹوارزم، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ایڈمنسٹریشن، ایڈوکیٹ جنرل، کمشنر ملاکنڈ، کمشنر ہزارہ، ایم ڈی ٹوارزم، ڈی جی کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو صوبے میں سیاحت کیلئے اب تک کئے گئے اقدامات و پیشرفت، انٹگریٹڈ ٹوارزم کنٹجنسی پلان، شعبہ کھیل و ثقافت کیلئے کئے گئے اقدامات دریائے سوات پر تجاوزات و غیر قانونی مائننگ کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسٹ ہاوسز کی آؤٹ سورسنگ اور سیاحتی مقامات میں ہوم سٹے پراجیکٹ کو اس سیزن فعال بنایا جارہا ہے۔ کیمپنگ گراؤنڈز کیلئے متعلقہ کمشنرز کی مشاورت سے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تین ریسٹ ایریاز کی ٹینڈرنگ ہو چکی ہے جبکہ چار مقامات کو ریسٹ ایریاز ڈیکلیر کرنے کیلئے سیکشن فور لگا دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سیاحتی مقامات میں ٹورسٹ کی معلومات کیلئے سنٹرز مکمل طور پر فعال بنائے گئے ہیں، جبکہ کیمپنگ پاڈز کیلئے بھی تیاری کرلی گئی ہے۔ چترال، کالام اور کمراٹ میں ڈسٹینشن انوسٹمنٹ مینجمنٹ پلان اور وزٹرز مینجمنٹ پلانز پر کام جاری ہے جس کو آٹھ مہینے میں مکمل کیا جائے گا۔