357

ایکوضاحت۔۔۔۔ منجانب محمد کوثر ایڈووکیٹ مسلم لیگ ن چترال

مسلم لیگ ن چترال کسی بھی قسم کی منافرانہ سیاست کا قایل نہ ھے۔چنکہ مسلسل دو بار مسلم لیگ ن کے خدمات کو تسلیم نہیں کیا گیا اس لیے ھم کسی بھی احتجاج یا ھڑتال کی سیاست سے گریزان رھے تاکہ پتہ چلے کہ کیا واقعی چترال کے عوام نے اھل اور قابل لوگوں کو منتخب کرکے ھمیں چوتھے نمبر پر لاکے درست فیصلہ کیا ھے؟
اج الحمداللہ ھمارےمنتخب سیاسی جماتون کے دو سال پورے ھونے کو ایے تو پتہ چلا کہ چترال کی اپنی ھی بجلی غایب ھے😊
ایک مخصوص مذھبی گروہ بجلی کے بارے اپر اور لوئیر چترال میں دوریان پیدا کرنےاور انے والے بلدیاتی انتخابات کے بارے اپنے ناکامیون کو چھپانے کے لئے حسب فطرت گرگٹ کی طرح جدوجہد شروع کرچکا ھے ۔
اج بجلی کے بارے انہی فاتح جماتون کے زیرانتظام ایک اچھا خاصہ اجتماع ھوا۔
اج کے جلسے کے بارے تفصیل لکھ رھاھوں مگر اس سے پہلے یہ وضاحت ضرور کرنا چاھتا ھوں کہ اس جلسے میں مسلم لیگ ن مدعو نہ تھا بلکہ ھمارے مخصوص دوست جنکی اکثریت ایک مہربان مذھبی جماعت سے ھے باقی پارٹیان انکے ڈنک سے بےخبر شامل تھے۔مسلم لیگ ن کو دعوت اس لیے نہیں دی کہ یہ غیر سیاسی ” مراقبہ و ذکریہ“ جدوجہد ھے😜
وھان ایک مہربان نے یہ انکشاف کیا کہ ایک بااثر شخص ھمارے بچے کچھے پانچ میگاواٹ کو اپر چترال کے ساتھ تقسیم کرنے کی کوشش کررھا ھے جو کہ ھمیں قبول نہ ھے۔ ابھی ان لاین اخبار میں یہ خبر اسی اجتماع کے حوالے اشارون کنایون میں نظر سے گذرا ۔
میں مسلم لیگ ن کی طرف سے ایسے کسی قسم کے منافرانہ بیان کی تردید کرتا ھون۔مسلم لیگ ن چترال اپنے قاید نوازشریف کے وژن کے مطابق پورے چترال کو گولین ھایڈل سے منور دیکھنا چاھتا ھے۔ھم اپر لوئر کے قایل نہ ھیں ھم ایک قوم ھیں ھم کہو قوم ھیں اور ھمارا مرنا اور جینا ایک ھے۔گولین گول ھایڈل مین واقع سقم کو دور کیا جاکر اپر اور لویر چترال دونون کو بجلی فراھم کی جایے۔
لہذا مسلم لیگ ن چترال اج کے نام نہاد بجلی کمیٹی میں موجود منافرت پھیلانے والے منتظمین کے کسی بھی غیر قانونی و غیر اخلاقی باتون سے برات کا اعلان کرتا ھے۔
سابق ایم این اے شہزادہ افتخار نے اپنی تقریر میں بھی اس بات پر زوردیا کہ ھایڈل پاور کے نقایص دور کرکے اپر اور لوئر چترال کے لیے بجلی بحال کی جاۓ۔لہذا تمام میڈیا اور پریس کے دوستون سے تصحیح کرنے کی درخواست ھے
اس وضاحت کے بعد کے لطایف ملاحظہ کیجیے
جو کچھ میں نے وھاں منتظمیں کے رويے اور باڈی لینگویج کو دیکھا وہ دلچسپ تھا اس پر علحیدہ کالم لکھ رھا ھوں جو کہ میرے پیارے قاریئں کے لیے دلچسپ ھوگا مگر فی الوقت ان لاین اخبارات میں چپھی خبروں کے بارے وضاحت ضروری سمجھتا ھوں جس میں خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا گیا ھے کہ موجودہ دستیاب بجلی کہیں اور نہیں صرف ٹاون کو دیا جاۓ۔
اس جلسے میں ھی ایک مہربان نے کھل کے مجھے کہا کہ اتحادی ایم پی اے نے ھماری بجلی اپر چترال کے لیے لینے کی کوشش کررھا ھے۔
چنکہ اس جلسے میں ساپق ایم این اے شہزادہ افتخارمیرے پس و پیش کرنے کے باوجود اپنے خدمات بتانے اور جلسہ کے ساتھ اظہار یکجھتی کے لیے جانا چاھتے تھے تو چار و ناچار انکے ساتھ وہان گیا ۔ اب وھان ھمیں بن بلاۓ دیکھ کر منتظمیں کے لیے ” گور نو نیسیتائی“۔ منہ لٹکاتے بھونیں چڑھاتے پھن پھیلا کے ” ھلکا سا کھانستے ھوۓ“ استقبال کرکے حکم صادر فرمایا گیاکہ یہ سیاسی جلسہ نہیں اس لیے مختصر ھو۔ایک دوست نے دوسرے کو کہنی مارکے ھماری جانب اشارہ کرکے باییں انکھ مارتے ھوۓ کہنے لگا کہ کسی سیاسی صدور کو ھم نے نہیں بلایا اور صرف ایک شخص بات کرے۔میں نےکہا جناب غیرسیاسی خیر و صدقات ھوتے ھیں باقی مفاد عامہ کی باتین اپ میں سب سیاسی ھیں مگر چور کی داڑھی میں تنکا تھا اس لیے ھمارا ایک نہ سنا گیا ۔البتہ شہزادہ افتخار کو بطور سابق ایم این اے کے طور پر دعوت دیا گیا ساتھ منتظمیں ایک دوسرے کو انگلی مار کے ”مختصر ۔۔مختصر“ کی اوازین نکال لیے۔میں انکے اس حد تک متعصبانہ اور نفرت انگیز روۓ کو دیکھ کر اسٹیج سے اترنے ھی میں عافیت سمجھا۔۔۔