62

چوہدری پرویز الٰہی کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے معاہدے کا راز فاش کرنے سے انکار

لاہور( آوازچترال نیوز) چوہدری پرویز الٰہی کا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے معاہدے کا راز فاش کرنے سے انکار۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا راز میرے پاس ہے، راز کو فاش کرکہ امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا صاحب ملیں تو پھر راز فاش کرنے کے بارے میں پوچھونگا۔انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا کام ہی ایوان کے اندر باہر شورشرابا اور تنقید کرنا ہے، حکومت کا کام عوام کو ریلیف دینا ہے، حکومت اپنا کام جاری رکھے تو اپوزیشن کی تحریک کو کوئی نہیں پوچھتا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ اتحاد کے معاملات سلجھ چکے، نیک نیتی سے اتحاد کیا اور اسکو آگے بڑھا رہے ہیں، اب کوئی وجہ نہیں کہ حکومت اپنے وعدے پورے نہ کرے، پہلے بھی حکومت سے معاملات طے پا گئے تھے، صرف کمیٹی تبدیل کرنے سے ابہام پیدا ہوا۔   واضع رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف لندن پلان بن رہا ہے۔ ایک انٹرویومیں ترجمان وزیر اعظم ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر تحقیقات کا کہا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مجھے 3 ماہ میں استعفیٰ اور انتخابات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ندیم افضل چن نے کہا تھا کہ ترجمانوں کے اجلاس میں دھرنے کی سازش پر بات ہوئی یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہوئی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی اور رہنما مسلم لیگ ق پرویز الٰہی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ترجمان وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسپیکر پرویزالہی اتحادی ہیں ان پر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔جب کہ این این آئی کی رپورٹ کے مطابق ندیم افضل چن کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا کہ نام نہیں بتا سکتا لیکن مولانا فضل الرحمان انہی اشاروں کو لے کرہمارے پاس آئے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو استعمال کیا اور خود ہاتھ اور جھولی بھر کر لے گئے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی یقین دہانیاں اٴْسی طرف سے تھیں جہاں سے وزیر اعظم عمران خان کو امپائر کی انگلی اٹھنے کی امید تھی۔خیال رہے کہ آزادی مارچ کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اہم ترین شخصیت نے مولانا کو نئے انتخابات کی یقین دہانی کروائی تھی،دھرنے سے قبل مولانا فضل الرحمن کی پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے کئی اہم ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔کہا گیا تھا کہ ہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے اسلام آباد اپنی مرضی سے نہیں آئے اور نہ ہی واپس گئے۔ اہم ترین شخصیت نے انہیں کہا تھا کہ عمران خان معیشت بہتر نہ کر سکے،حالات ٹھیک نہ ہوئے تو ہم ایسا لائحہ عمل بنائیں گے کہ نئے انتخابات کروائے جائیں گے۔