69

داد بیداد……..خوش نصیب……… ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ٹیلی وژن سکرین اور سوشل میڈیا آنے سے پہلے جو لوگ حکومت کر تے تھے وہ خوش نصیب تھے‘فیلڈ مارشل ایوب خان 1960میں دو ہفتے منظر سے غائب رہے وہ جیپ اور گھوڑے کی پشت پر سفر کرکے خنجراب گئے‘چینی حکام سے قراقرم ہائی وے کی تعمیر کا ابتدائی خاکہ تیار کرنے پر گفتگو کی پھر خاموشی سے راولپنڈی آگئے‘دو ہفتوں میں کسی کو پتہ نہ چلا کہ امریکیوں کا اتحادی چینیوں کےساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں 2020ءمیں فیڈرل بورڈ آف ریونےو نامی گمنام سرکا ری دفتر کا گمنام چیئرمین شبر زیدی دفتر سے چھٹی لیتا ہے تو ایک گھنٹہ گزرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر اس کی خبر آجاتی ہے‘ دوگھنٹے بعد سارے ٹی وی چینلوں پر اس کا تذکرہ شروع ہوجاتا ہے‘ 70ءکی دہائی میں سوشل میڈیا کی آمد ہوتی تو اقلیم اختر رانی کے تذکرے حریم شاہ اور صندل خٹک کے تذکروں سے بڑھ کر ہوتے‘ وہ لوگ بلاشبہ خوش نصیب تھے کہ ان کے کرتوت کم ازکم دو سال تک پوشیدہ رہے‘آپ ٹویٹر اور فیس بک کو ہزار بار مطعون کریں مگر یہ بات ماننا پڑے گی کہ شیطان کے ان ہتھیاروں نے بڑے بڑوں کو لگام دی ہے۔ چند سال پہلے تک اخبار اور ریڈیو کو تاریخ کے حوالے کی حیثیت حاصل نہیں تھی اب ذرائع ابلاغ کو ایک الگ درجے میں ڈال کر حوالہ مانا گیا ہے‘ مستقبل میں مورخ فیس بک اور ٹویٹر کو بھی حوالے کے طور پر پیش کرے گا‘ سکندراعظم اور راجہ پورس کی جنگ 326قبل از مسیح کا واقعہ ہے تاریخ دانوں کی نئی بحث یہ ہے کہ اس جنگ میں راجہ پورس کو فتح حاصل ہوئی تھی مگر سکندراعظم کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ میں اپنے آپ کو فاتح قرار دیا‘یہ بھی لکھوایا کہ راجہ پورس کے زخمی ہاتھیوں نے خود اپنی فوج کو روند ڈالا اس وجہ سے اردو میں بے وفائی کرنےوالے دوستوں اور عزیزوں کو پورس کے ہاتھی کہا جاتا ہے‘ آج کا حکمران اگر 50سال پہلے حکومت میں ہوتا تو اس کوکتنی سہولت ہوتی اس کی کسی پرانی تقریر کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہوتا اس کی پوری زندگی پردہ میں ہوتی‘رقیبوں کے ہاتھوں میں اس کی کسی کمزوری کا آڈیو اور ویڈیو ثبوت نہ ہوتا‘ وہ حکمران کتنے خوش نصیب تھے جو آئی ایم ایف کو 100گالیاں دینے کے بعد پھر آئی ایم ایف کے دست زر پرست پر بےعت کرتے تھے مگر ان پرکوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا‘ان کی یہ بھی خوش نصیبی تھی کہ وہ قرض لینے والوں پر ہزاروں بار لعنت بھیجنے کے بعد خود قرض لیتے تھے مگر کسی مخالف کو ان کے کردار پر شک کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی‘غلام محمد جب گورنر جنرل تھے تو ان کے پاس دو انگریزی اور دو اردو اخبارات آتے تھے رات 10بجے سے پہلے دفتر کا عملہ ان اخبارات کے الگ ایڈیشن تیارکرواتا تھا جو خصوصی طور پرگورنر جنرل کو بھیجے جاتے ان کا عملہ پڑھ کر سناتا تو وہ بیحد خوش ہو تے تھے ان کی دور میں ٹیلی وژن سکرین ہوتا اور سوشل میڈیا کی نعمت میسر ہوتی تو گورنر جنرل کو ڈمی اخبارات دکھا کر دھوکہ دینا ممکن نہ ہوتا۔ دنیا کی تاریخ میں بے شمار حکمرانوں نے رنگارنگ زندگی گزاری لیکن ان کی زندگی کے پوشیدہ گوشے پوشیدہ ہی رہے‘ اس زما نے میں خفیہ کیمرے نہیں تھے قلم کیمرہ بھی نہیں ہوتا تھا ٹی وی سکرین نہیں تھا سوشل میڈیا کی وباءنہیں تھی ہمارے دور میں لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس خفیہ کیمروں اور پاپا رازی فوٹوگرافروں سے تنگ آگئے دونوں میں جدائی کے بعد بھی فوٹو اور خبر کی تلاش میں پھرنے والی بلاﺅں نے لیڈی ڈیانا کا پیچھا نہیں چھوڑا‘ آخرکار اپنے دوست ڈوڈی الفائد کے ہمراہ پیرس کے سفر میں حادثے کا شکار ہوکر چل بسیں‘اسوقت بھی پاپارازی فوٹوگرافروں کی ٹیم ان کا پیچھا کر رہی تھی‘نئی بحث یہ ہے کہ ٹی وی سکرین اور سوشل میڈیا رحمت ہے یا زحمت‘ دانشوروں کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ رحمت اور نعمت ہے‘حکمرانوں‘ جاگیرداروں اور بااثر لوگوں کا کچا چٹھا عوام کے سامنے رکھ دیتا ہے اور عوام کو پس پردہ حقائق سے باخبر کرتا ہے بادشاہتوں میں بھی بادشاہوں اور شہزادوں کو بے لگام ہونے نہیں دیتا جمہوری حکومتوں میں ’جمہور کے ابلیسوں ‘کے کرتوتوں سے ووٹروں اور پارٹی کارکنوں کو باخبر رکھتا ہے دا نشوروں کا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہ دور حاضر کی مصیبتوں میں سب سے بڑی مصیبت ہے ‘اس مصیبت نے شوبز کے شعبے سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو بھی سکےنڈلوں میں ملوث کیا سیاست کے شعبے میں عوام کے مقبول رہنماﺅں کو بھی نہیں بخشا۔ کھیلوں کے شعبے میں نام پیدا کرنےوالی اہم شخصیتوں کو بھی بدنام کیا الغرض کسی کی نجی زندگی کو’نجی‘ رہنے نہیں دیا‘ پرائیویسی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ 50سال پہلے گزرنے والے حکمران بھی خوش قسمت تھے اس دور میں فلم ‘ریڈیو‘میوزک اور کھیلوں میں نام پیدا کرنےوالے لوگ بھی خوش نصیب تھے ان کی نجی زندگی کیمروں کی نظر میں نہیں آسکتی تھی‘ان کی نجی زندگی ویڈیو نامی بلا سے محفوظ تھی آپ چشم تصور سے دیکھیں مغل اعظم کے زمانے میں سوشل میڈیا ہوتا تو انارکلی جہانگیر کی ملکہ ہوتی اور نورجہاں کا نام بھی نہ ہوتا‘ اورنگ زیب عالمگیر کے ہا تھوں نہ اسکا باپ قید ہوتا نہ اس کے بھائی قتل ہوتے نہ ان کے ہاتھ بھتیجوں کے خون سے رنگین ہوتے‘ وہ لوگ خوش نصیب تھے جو حکمرانی کے مزے لیتے ہوئے ہر کام کر سکتے تھے جو ان کے جی میں آتا تھا وہ بلاجھجک کرگزر تے تھے‘ 2020ءمیں سوشل میڈیا نے ٹرمپ سے لیکر مودی تک سب کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔