133

خان آف میانوالی………منصور آفاق

لاطینی میں کہتے ہیں: mea culpa mea culpa mea maxima culpa(میں قصور وار ہوں، میں قصور وار ہوں، میں سب سے بڑا قصور وار ہوں)

جب بھی موجودہ حکومت کی کسی حکمتِ عملی سے غریب کی کمر دہری ہونے لگتی ہے تو میرے منہ سے یہی جملہ نکلتا ہے مگر میں اپنے کیے دھرے پر شرمندہ نہیں ہوں۔ یہ تبدیلی ضروری تھی۔ میثاقِ جمہوریت کی چکی کے دو پاٹوں میں پاکستان گیہوں کی طرح پس رہا تھا۔ ہر معاملہ، ہر چیز کرپشن کے جوہڑ سے گزر کر لوگوں تک پہنچ رہی تھی۔ پورا ملک ناپاک ہو چکا تھا۔ مرغی کا گوشت بھی اور انڈے بھی۔ فیکٹریوں سے نکلتی ہوئی چینی بھی۔ کچہریوں میں ہوتا ہوا انصاف بھی۔ اسپتالوں سے ملتی ہوئی ادویات بھی۔ یونیورسٹیوں سے ملتی ہوئی اسناد بھی۔ ایسے میں عمران خان کی آمد نیکیوں کے چاند جیسی تھی۔ وہ صحرا کی دھوپ میں نخلستان لگ رہا تھا۔ کھڑکیوں کے جھروکوں سے امیدوں نے جھانکنا شروع کر دیا تھا۔ وہ گرفتار ہونے لگے جو آزادیوں کے پروانوں پر دستخط کیا کرتے تھے۔ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ شہزادی کی گرفتاری پر ایک سرائیکی شاعر نے کہا

جیں کنڑ ایہہ تخت بخت دے وچھدے گلی گلی تے ہن

اج او وی جیل ٹُر گئی کم ایہہ عجیب نی تھیا

یہ ایک بڑی تبدیلی تھی۔ جسے پوری طرح محسوس کیا گیا لیکن پھر بھی پٹواری سے ڈپٹی کمشنر تک اور سپاہی سے ڈی پی او تک، رسد کی جو تار بچھی ہوئی ہے، اسے ابھی تک کہیں سے بھی نہیں کاٹا جا سکا۔ عمران خان کی گاڑی یوٹرن لیتی رہی۔ حالانکہ سامنے والی دیوار دھوکا تھی۔ ایک کاغذی پردہ تھا جس پر اینٹوں سے چُنی ہوئی فصیل کی تصویر بنا دی گئی تھی۔ اسد عمر اگر ابھی تک وزیرِ خزانہ ہوتے تو معیشت سنبھل چکی ہوتی مگر افسوس کپتان فریب کاروں کے چکر میں آگئے۔ اس وقت شبر زیدی بیمار ہو چکے ہیں اور عبدالحفیظ شیخ بیمار ہونے والے ہیں۔ یا اللہ رحم فرما، ہمارے وزیراعظم عمران خان کی خصوصی رہنمائی کر، اسے راستہ سجھا، بجز تیرے کرم اکرام کے، بے شک انسان خسارے میں ہے۔

میں عمران خان کی شان میں جہاں جہاں رطب اللساں ہوا، انوار حسین حقی نے وہ تمام کالم ’’خان آف میانوالی‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کر دیے ہیں۔ تاریخ کے شیلف میں محفوظ کر دیے ہیں۔ کتاب کے بیک ٹائٹل پر صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے فلیپ میں لکھا ہے ’’کالموں میں بہت ساری جگہوں پر عمران خان کو خوبصورت انداز میں اُن وعدوں کی یاد دلائی جاتی رہی جو انہوں نے قوم سے وقتاً فوقتاً کیے‘‘۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ایک معمولی ورکر سے لے کر صدرِ پاکستان تک ہر شخص کا مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے قوم کو وہ جو نئے پاکستان کے خواب دکھائے تھے، جو وعدے کیے تھے وہ کیا ہوئے۔

کس گلی میں رک گیا سچ کا جلوس

سر پھروں کے اونچے پرچم کیا ہوئے

وعدوں کی تلاش میں پی ٹی آئی کے ورکر بنی گالا کا محاصرہ کرنے والے ہیں۔ یہ کہنے کے لیے کہ بےشک ابھی معاشی طور پر پاکستان مشکل دور میں ہے مگر ’’دو پاکستان نہیں ایک‘‘ کا نعرہ کیا ہوا۔ تمام اسکولوں میں وہ جو ایک نصاب رائج ہونا تھا، اسے کس محمود کی شفقت کھا گئی ہے۔ بیورو کریسی کا قبلہ درست کرنے والی اصلاحات کہاں ہیں۔ افسروں کے دروازے عوام کیلئے کیوں نہیں کھولے جا سکے۔ پاناما لیکس میں جن 437پاکستان کے نام شامل تھے جن میں 150کا سراغ بھی مل گیا ہے، ان کے خلاف کیوں کچھ نہیں کیا گیا۔ کیا ’’سانحہ ماڈل ٹائون‘‘ عمران خا ن بھول چکا ہے۔ انصاف کی تحریک کہاں رہ گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکر میرے اور ہارون الرشید کے پاس آئے تھے کہ بنی گالا کے محاصرے میں آپ ہمارے ہم قدم ہوں۔ انکار کی گنجائش تو نہیں تھی مگر پھر بھی ہم نے انہیں حوصلے کا مشورہ دیا۔ وہ جو چند پی ٹی آئی کے ورکر وزیر ہیں ان کے پاس جانے کو کہا تو اُن میں سے ایک نے کہا ’’ہم گئے تھے مگر وہ اقتدار کے نشے میں ہیں‘‘ شعر یاد آگیا ہے، اس نے پی لی بھی ہو اور نشے میں نہ ہو ایسا ممکن تو ہے وہ حکومت میں ہو اور نشے میں نہ ہو ایسا ممکن نہیں۔ احساسِ کفالت پروگرام کے تحت کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا بےشک حکومت کا احسن اقدام ہے مگر عمران خان کو یاد رکھنا چاہئے بائیس کروڑ کی آبادی میں چالیس کروڑ آنکھیں ان کے چہرے پر جمی ہوئی ہیں۔ کوئی روٹی کے لئے تو کوئی چھت کیلئے، کوئی انصاف کیلئے تو کوئی تعلیم اور صحت کیلئے۔ اُن آنکھوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر چاہئے۔ مجھے اس بات پر ذرہ بھر شبہ نہیں کہ عمران خان کی زندگی کا مقصد ایک ترقی یافتہ پاکستان ہے مگر تبدیلی کی رفتار بہت سست ہے۔

خان صاحب! لوگوں کو اخبارات پڑھنے اور ٹی وی پر سیاسی پروگرام دیکھنے سے مت روکیے۔ کچھ ایسا کیجئے کہ لوگ غلط خبریں چھاپنے والے اخبارات کو صرف پکوڑوں کیلئے استعمال کریں۔ کچھ ایسا کیجئے کہ جھوٹ بولنے والے سیاسی پروگراموں کی ریٹنگ یکلخت زمین پر آگرے۔ خان صاحب! صرف خیبر پختونخوا کے وزیروں کو نکالنے سے کام نہیں چلے گا۔ وفاق اور پنجاب میں بھی کئی وزیروں کی چھٹی ضروری ہو چکی ہے۔ نون لیگ کے فارورڈ بلاک کو اپنی صفوں میں جگہ دیجئے۔ وہاں سب برے نہیں۔ کراچی اور گجرات میں گڈ گورنس کیلئے یہ بڑا ضروری ہے۔ اور ہاں! انوار حسین حقی جیسا کوئی شخص بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہونا چاہئے جو آپ کو غریبوں کا احوال بتا سکے۔ آخری بات! جلدی کچھ کیجئے، وقت کم ہے۔

Facebook Comments