61

تنخواہوں میں اضافہ، 20 لاکھ سرکاری ملازمین نظر انداز

اسلام آباد (انصار عباسی) بیورو کریسی، حکومت کو بے وقوف بنا رہی ہے، سیکرٹریز کمیٹی نے وفاقی سیکرٹریز کی تنخواہوں میں 100فیصد اضافے کے ساتھ وفاقی سیکرٹریٹ کے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری اضافوں کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا کہ اگر ان کی سفارشات منظور ہو گئیں تو مربوط پے اسکیل سسٹم کا کیا بنے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ تنخواہوں میں دیگر 20 لاکھ سرکاری ملازمین کو نظرانداز کر کے غیرمعمولی اضافے ہوں لیکن حکومت کو یہ بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے وہ جو استثنیٰ چاہتے ہیں اس سے مربوط پے اسکیل سسٹم میں کیا بگاڑ رونما ہو گا۔ غلط نظیروں سے بیورو کریسی کے مراعات یافتہ طبقے کو نوازا اور محروم طبقے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سیکرٹریز کمیٹی کی سفارشات کا بنیادی مقصد سول بیوروکریسی کے ایک منتخب طبقے کو نوازنا ہے جس سے نہ صرف مربوط پے اسکیل سسٹم میں بگاڑ پیدا ہو گا بلکہ سرکاری ملازمین کے بڑے طبقے میں خلش اور احساس محرومی اجاگر ہو گا جو کسی ایسی سہولت سے محروم ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے

کہ سیکرٹریز کمیٹی کی حکومت کو سفارشات سے ایک اور استثنیٰ قائم ہو گا جسے بڑی چالاکی سے تخلیق کیا گیا ہے جن کا یکے بعد دیگرے مقصد ملک کی سول سروس کے بااثر طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ مزید یہ کہ سیکرٹریز کمیٹی کا فیصلہ اگر منظور اور اس پر عملدرآمد ہو گیا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ان سیکرٹریوں کو ہی ہو گا۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق گریڈ۔ ایک سے گریڈ۔22 کے وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین کے سیکرٹریٹ الائونس کے طور پر بنیادی تنخواہ کا یکساں 120فیصد اضافہ ہو گا لیکن وفاقی سیکرٹریٹ، وزارتوں اور ڈویژنوں کے ایڈیشنل سیکرٹریز انچارج کے ایگزیکٹو الائونس میں معقول اضافہ ہونا چاہئے جو کمیٹی اجلاس کی روئیداد میں 4 لاکھ روپے ماہانہ درج ہے۔ وقتاً فوقتاً سرکاری ملازمین کے اسپیشل گروپ کی تنخواہوں میں انتظامی احکامات کے ذریعے جو اضافہ ہوتا رہا اس نے مربوط پے اسکیل سسٹم کو مکمل طور پر مسخ کر کے رکھ دیا۔ یہ سسٹم 1973ء میں انتظامی اصلاحات کے تحت متعارف کرایا گیا تھا۔ اس دستور کی منظوری کے ساتھ بارہا کی انتظامی مداخلت نے استثنیٰ کے بدنما جزیروں کو ابھارا۔ شروع میں 2018ء میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں خدمات انجام دینے والے پی اے ایس (سابق ڈی ایم جی) اور پی ایم ایس (سابق پی سی ایس) کے ’’ایگزیکٹو الائونس‘‘ میں 150فیصد اضافے کی منظوری دی۔ گزشتہ سال کے وسط جولائی 2019ء میں پنجاب کی عثمان بزدار حکومت نے خیبر پختونخوا کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی بیورو کریٹس کی رواں بنیادی تنخواہوں میں پنجاب اسمبلی کی رائے لئے بغیر 150فیصد اضافہ کیا۔ یہ انتہائی امتیازی اضافہ ایگزیکٹو الائونس کے عنوان سے 1700عہدوں کے لئے کیا گیا۔ استفادہ کرنے والوں میں نمایاں سابق ڈی ایم جی (پی اے ایس) اور سابق پی سی ایس (پی ایم ایس) افسران ہیں۔ صوبائی کابینہ سے منظور اس اضافے کا نوٹیفکیشن پنجاب اسمبلی سے بجٹ منظوری کے چند ہفتوں بعد جاری کر دیا گیا۔ ایگزیکٹو الائونس سے مستفید صوبائی عہدوں میں سیکرٹریز، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، ریونیو بورڈ کے ارکان، ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈپٹی سیکرٹریز، سیکشن افسران، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ریونیو حکام اور اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹس شامل ہیں تاہم گریڈ۔ 17سے نیچے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ پنجاب میں تنخواہوں میں مذکورہ اضافے نے وزیراعظم کے کلیدی معاون کو پریشان کر دیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ پنجاب میں یکساں پے اسکیل سسٹم کو مزید مسخ کر کے رکھ دیا گیا ہے تاہم سیکرٹریز کمیٹی نے صرف فیڈرل سیکرٹریٹ میں خدمات انجام دینے والے افسران کی تنخواہوں میں بھاری اضافوں کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر وزارت خزانہ سے کہا کہ وہ اس حوالے سے سمری وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے لئے فوری طور پر پیش کرے۔ سیکرٹریز کمیٹی چاہتی ہے کہ تنخواہوں میں مجوزہ اضافہ یکم جنوری 2020ء سے لاگو ہو۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے قبل سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، ایف بی آر، نیب وغیرہ نے اپنے ملازمین کو دیگر کے مقابلے میں زیادہ تنخواہیں وصول کرنے کی اجازت دے دی۔ حکومت کے اصلاحاتی عمل سے منسلک ایک سینئر افسر کے مطابق منتخب طبقات کی تنخواہوں میں اضافے کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہوں میں اضافے کا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے، جو بہتر خدمات انجام دے گا اسے دیگر کے مقابلے میں بہتر تنخواہ ملنی چاہئے۔ 1973ء کی انتظامی اصلاحات کے ذریعے تمام خدمات اور عہدوں کو واحد اور مربوط گریڈ اسٹرکچر میں ضم کردیا گیا ہے جہاں سب کے لئے یکساں مواقع ہوں۔ آئین کے آرٹیکل۔ 240میں حکومت پاکستان کے تحت ملازمت کی شرائط وضع کردی گئیں۔

Facebook Comments