112

دُنیا میں اس کی مثال ہو یا نہ ہو ۔ لیکن کالاش ویلیز میں ایک دن یا نصف دن کیلئے بادشاہ  کے انتخاب کی رسم .اب تک سینکڑوں افراد بادشاہ ( میتار) کا لقب حاصل کر چکے ہیں

چترال (  نمائندہ آوازچترال ) دُنیا میں اس کی مثال ہو یا نہ ہو ۔ لیکن کالاش ویلیز میں ایک دن یا نصف دن کیلئے بادشاہ  کے انتخاب کی رسم صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اور اب تک سینکڑوں افراد بادشاہ ( میتار) کا لقب حاصل کر چکے ہیں ۔ اور ہزاروں مال مویشی ذبح کرکے میتار بننے کی خوشی میں دعوت پر لٹائے جا چکے ہیں ۔ میتار بنانے کی یہ رسم آج بھی انتہائی دلچسپی اور جوش و جذبے سے ادا کی جاتی ہے ۔ حال ہی میں شدید برفباری کے بعد جب بمبوریت ویلی میں انیژ گاءوں کے شادی شدہ اور غیر شادی کھلاڑیوں پرمشتمل ٹیموں کا آپس میں معروف سرمائی کھیل کیرک گاڑ ( سنو گاف ) کا مقابلہ ہوا ۔ تو غیر شادی شدہ کھلاڑیوں کی ٹیم نے مد مقابل ٹیم کو نہ ٹکنے دی ۔ اور زبردست کھیل پیش کرکے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے کامیابی حاصل کی ۔ اس کامیابی پر منعقد ہونے والا جشن دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ۔ ہر کوئی کامیابی پر مدہوش اور ڈھول کی تھاپ پر محو رقص تھا ۔ اس جشن کی رنگینوں میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا ۔ جب گاءوں کے لوگوں نے کالاش نوجوان خوش ولی کو حسب روایت میتار( بادشاہ ) چن لیا ۔ بادشاہ کو کندھوں پر اُٹھا کر مخصوص گیت گائے گئے ۔ خصو صی لباس چپان اور ٹوپی پہنایاگیا ۔ اور گاءوں کے لوگ باری باری گلے ملے اور مبارکباد دی ۔ جبکہ خواتین نے نئے میتار پر اخروٹ اور خشک میوہ جات کی برسات کر دی ۔ میتار کے انتخاب کے موقع پر مقامی لوگوں اور سیاحوں کا ایک جم غفیر موجود تھا ۔ اور یوں گمان ہو تا تھا ۔ کہ جیسے حقیقی معنوں میں کسی باشاہ کی تاج پوشی کی جارہی ہے ۔ منتخب شدہ میتار نے گاءوں کے لوگوں اور مہمانوں کیلئے ایک بیل ذبح کرکے اسپیشل ڈش (جوش) کی ضیافت دی ۔ جس میں حسب روایت دیسی گھی سے تیار ہونے والے اسپیشل ڈش پر تقریبا ڈھائی لاکھ روپے صرف ہوئے ۔ رات بھر اس خوشی میں موسیقی کی محفل جمی رہی ۔ جس میں نوجوانوں نے خوب جی بھر کر ڈانس کرکے ٹھٹہرتی سردی کو مات دے دی ۔ اس موقع پر بادشاہ کے احکامات کی بجا آوری کیلئے ایک اور نوجوان نجیب اللہ کالاش کو بطور وزیر بھی منتخب گیا ۔ جس نے حاضر مہمانوں کیلئے بکرا ذبح کر کے مہمان نوازی کی ۔ کالاش وادیوں میں شدید برفباری کے دوران زندگی کو متحرک رکھنے کیلئے کھیلوں اور دعوتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا شروع ہوتا ہے ۔ یہ گویا مل بیٹھنے اور سردی کا مقابلہ کرنے کا ایک بہانہ ہے ۔ بادشاہ کے احکامات پر لوگ کتنا عمل کرتے ہیں ، اس سے قطع نظر یہ بات حقیقت ہے ۔ کہ میتار اپنے احکامات پر خود عمل کرتا ہے ۔ اور سینکڑوں افراد جو اس کا انتخاب اور تاج پوشی میں شریک ہوتے ہیں ۔ اُن کیلئے دعوت و ضیافت کا اہتمام ضرور کرتا ہے ۔ اور یہی  کالاش برادری میں اُن کیلئے ناک اونچی رکھنے اور فخر کی بات ہے ۔