80

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکناجی خالد مقبول صدیقی کے استعفیٰ کی پس پردہ کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز)  وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکناجی خالد مقبول صدیقی کے استعفیٰ کی پس پردہ کہانی سامنے آ گئی، تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے گورنرسندھ کے کی تبدیلی کی صورت میں فروغ نسیم کے نام پر اعتراض کیا تھا، ایم کیو ایم کی قیادت فروغ نسیم سے نالاں ہے، اعلیٰ حلقوں میں فروغ نسیم کو گورنر سندھ بنانے کا نام زیر غور آیا تھا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے فروغ نسیم کے حالیہ کردار پر بھی اعتراض اٹھایا تھا، متحدہ نے گورنرسندھ کے طور پر فروغ نسیم کے نام پر اعتراض کیا تھا، خالد مقبول صدیقیی نے بھی فروغ نسیم سے غیر واضع انداز میں لاتعلقی کا اعلان کیا تھا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت فروغ نسیم کو گورنر سندھ بنانا چاہتی تھی۔   یادرہے کہ وفاقی حکومت کا ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ اسد عمر کی سربراہی میں وفد کل ایم کیوایم پاکستان سے ملاقات کریگا۔ ذرائع نے مزید بتانا رتھا کہ وزیراعظم عمران خان نےگورنرسندھ سے بھی رابطہ کیا تھا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہےکہ سندھ کی لوکل گورنمنٹ بھی ایم کیو ایم سے ملاقات کرے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کےمطالبات جائز ہیں، کیے گئے وعدے وفا ہونگے، ایم کیو ایم حکومت کا بہترین اور با اعتماد اتحادی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی عوام نے پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے انہیں ٹھیس نہیں پہنچائینگے۔واضع رہے کہ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی کا وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان سامنے آیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ میرا اب کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے، فروغ نسیم کابینہ کا حصہ رہیں گے، بلاول کی آفر کا اس علیحدگی سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کے ساتھ تعاون کو جاری رکھیں گے۔انھوں نے کہا تھا کہ میرے لیے مشکل ہےکہ میں کابینہ میں بیٹھوں اور عوام پریشان ہوں، کابینہ سے دستبردار ہو جائینگے لیکن حکومت سے تعاون کو جاری رکھیں گے، میرے وزارت میں بیٹھنے سے کراچی کی عوام کو فائدہ نہیں ہو رہا۔ انکا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کے فروغ کے لیے فروغ نسیم جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ہم نے حکومت کے سامنے عوامی مسائل رکھے جو کہ کاغذات تک محدود رہے، میرا کابینہ میں بیٹھنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے، گزشتہ دنوں سے کہں اور سے بھی وزارتوں کی بات ہوئی تھی، اس وقت ایم کیو ایم نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔