44

پولیوزدہ قانون…….. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

خبر آئی ہے کہ پولیو کے مرض نے وبائی صورت اختیار کرلی ہے۔ملک بھر میں پولیو کے مریضوں کی کل تعداد123ہے ہمارے صوبے میں پولیو کے مرض پر قابو پانے کی کوشش 2013 تک کامیابی سے ہمکنار ہورہی تھی۔2013 میں صرف ایک مریض کی رپورٹ آئی تھی۔اندازہ یہ تھا کہ2015 تک اس مرض پر قابو پالیا جائے گا‘ 2013 میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو جو رپورٹیں موصول ہوئیں ان کی رو سے2014 میں پڑوسی ملک بھارت کی ایک ارب 20کروڑ آبادی کو پولیو سے پاک قراردیا گیا‘پاکستان میں کراچی اور بلوچستان پولیو وائرس کے زیر اثرتھے‘اس لئے پاکستان پولیو فری ملک کا اعزاز حاصل نہ کرسکا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں2013کے بعد بھارتی ایجنسی کی طرف سے پولیو کے حق میں باقاعدہ مہم شروع ہوئی پولیو ورکرز پر حملے کئے گئے‘لاوڈ سپیکروں سے باقاعدہ اعلانات کرکے لوگو ں کو پولیو قطرے پلانے سے منع کیا گیا‘صوبے کے سب سے زیادہ پرامن ضلع چترال کی تحصیل دروش میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوا‘مجسٹریٹ نے ذمہ داروں کو گرفتار کیا مگر سیاسی مداخلت کی وجہ سے تین دن بعد ملزمان کو رہا کرایا گیاجبکہ مجسٹریٹ زیر عتاب آیا‘24گھنٹوں کے اندرمجسٹریٹ کو او ایس ڈی بنانے کا حکم جاری ہوا۔یہ دسمبر2018کی بات ہے‘اس طرح کے واقعات صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی پیش آئے‘پولیو ورکرز پر حملہ کرنیوالے سزا سے بچ گئے‘پولیو ورکرز کے قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت سے چھڑا لیا گیا‘ پشاور کے مضافاتی علاقہ ماشوخیل میں پولیو کے انسداد کی مہم کو ناکام بنانے کیلئے مہم چلائی گئی اور بچوں کو ہسپتال میں داخل کرکے ڈرامہ رچایا گیا پھر ہسپتال پر حملہ کرکے ہسپتال کی عمارت اور مشینری کو نقصان پہنچایا گیا ملزمان کو چھوٹ مل گئی۔اتنے بڑے واقعے کے ملزمان کو سزائے موت دینی چاہئے تھی۔

ماشوخیل واقعے کے بعد ہمارے صوبے میں انسداد پولیو کی مہم بے حد متاثر ہوئی کیونکہ پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میںاس واقعے کا بڑا چرچا ہوا جبکہ اس کے مقابلے میں کوئی مثبت بیانیہ سامنے نہیں آیا۔ڈاکٹروں کے حلقے میں جب بھی پولیو کی انسداد کیلئے سرکاری مہم کا ذکر ہوتا ہے تو ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں‘یہاں قانون کو پولیو وائرس لگ گیا ہے‘جہاں قانون پولیو زدہ ہو وہاں ڈاکٹروں کی ٹیم کیا کرسکتی ہے؟اب جبکہ خیبر پختونخوامیں پولیو کے88واقعات اور مریض رپورٹ ہوگئے ہیں جبکہ ملک کے تین صوبوں میں پولیو کے مریضوں کی تعداد35 ہے۔یہ بھی خدشہ ہے کہ روزانہ جس شرح سے پولیو کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اس حساب سے نئے سال کے آخرتک ہمارا صوبہ200 پولیو زدہ بچوں کے ساتھ پھر سرفہرست آجائے گا‘اپنے صوبے کو کس طرح اس نامراد مرض سے پاک کیا جائے؟اس حوالے سے روایتی طریقے ناکام ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد اور پشاور کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں ہونیوالے اجلاسوں کا منفی نتیجہ سامنے آیا ہے۔غیر روایتی طریقے سے پولیو ختم کرنے کرنے کیلئے پہلا کام یہ ہے کہ صوبائی حکومت اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیلئے عمر قید سزا کیساتھ دوکروڑ روپے جرمانہ مقرر کرے۔دوسرا کام یہ ہے کہ پولیو کے حق میں اور قطرے پلانے کیخلاف مہم چلانے والوں کے مقدمات عام عدالتوں کی بجائے خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں تاکہ قانون شکنی کی سزا بھی سب کے سامنے آجائے‘ تیسرا کام یہ ہے کہ 2014 سے 2019 تک جن لوگوں کو حوالاتوں اور عدالتوں سے چھڑایا گیا ہے ان کا ریکارڈ چیک کرکے سب کو دوبارہ گرفتارکیا جائے۔اگلے تین سال میں ہمارے صوبے کو پولیو فری ہونے کی سند مل جائے گی ہمارے ہاں جو لوگ پالیسی دیتے ہیں اور جو لوگ پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہیںان کے علم میں یہ بات ضرور ہوگی کہ دس پاکستانی سپاہی یا شہری مرنے پر بھارتی حکومت کو اتنی خوشی نہیں ہوتی جتنی خوشی چار پاکستانیوں کے معذور ہونے پر ہوتی ہے‘۔