84

انصاف کے دعویداروں نے ملازمتوں پر بھرتی میں شیشی کوہ کے ساتھ جو شرمناک کردار ادا کیا ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حاجی انذر گل سابق ممبر ضلع کونسل حاجی شیر محمد

چترال (نمائندہ آوازچترال) وادی شیشی کوہ کے عمائیدین حاجی انذر گل سابق ممبر ضلع کونسل حاجی شیر محمد، سابق ویلج ناظم سیف اللہ، عبدالقیوم، فضل رحمن، امیر حمزہ، قادر نواز، عبدالقدوس، عبدالرحیم اور دوسروں نے محکمہ ہائے صحت اور جنگلات میں شیشی کوہ وادی کے ساتھ ناانصافی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کے دعویداروں نے ملازمتوں پر بھرتی میں جو شرمناک کردار ادا کیا ہے، اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور حکومت کو یہ جان لینا چا ہئے کہ شیشی کوہ کے 22ہزار عوام اس ذیادتی کے خلاف کسی بھی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ سول ڈسپنسری کڑاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر نے شعیب اختر نامی جس شخص کو کلاس فور بھرتی کیا ہے، اس کا تعلق بمبوریت وادی سے ہے جوکہ اس گاؤں سے 100کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت سے سوال کیا کہ کیا شیشی کوہ میں 22 رہنے والے ہزارباشندوں میں ایک بھی کلاس فور بھرتی ہونے کے قابل نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ شیشی کوہ کے عوام کبھی بھی سول ڈسپنسری کڑاس میں اس ناجائز بھرتی کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں فارسٹ گارڈکے 22اسامیوں میں سے جنگلاتی علاقہ ارندو کے لئے 9اسامیاں مختص کرنے اورشیشی کوہ سمیت دیگر علاقوں کو نظر انداز کرنے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ وادی شیشی کوہ ارندو سے بڑا جنگلاتی علاقہ ہے جس کی طویل سرحدیں ضلع سوات سے جاملتی ہیں لیکن یہاں کے باشندوں کے لئے ایک بھی اسامی مختص نہیں ہوئی اور نہ ہی دوسرے جنگلاتی علاقوں عشریت، ارسون اور بمبوریت کے لئے اس میں کوٹہ مختص کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر ارندو جنگل سے لکڑی بڑی مقدار میں افغانستان سمگل ہونے اور چوری ہونے کی بنا پر کوٹہ دیا گیا ہے تو اس میں شیشی کوہ والے بھی کسی طور پیچھے نہیں رہیں گے اور آج سے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی شروع کریں گے تاکہ وہ بھی ملازمتوں پر مخصوص کوٹے سے مستفید ہوں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ، وزیر جنگلات، سیکرٹری جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جنگلاتی علاقوں کو فارسٹ گارڈوں کی بھرتی میں کوٹہ دیا جائے۔

Facebook Comments