101

خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 4 کیسز سامنے آگئے

اسلام آباد:(آوازچترال رپورٹ) سندھ اور خیبرپختونخوا سے پولیو کے مزید 4 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد رواں برس سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 119 تک پہنچ گئی ہے۔    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) سے جاری ںوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ کے اضلاع سکھر اور ٹںڈو اللہ یار اور خیبرپختوںخوا کے اضلاع بنوں اور ٹانک سے پولیو کے کیسز سامنے آئے۔ این آئی ایچ کے عہدیدار کے مطابق ضلع ٹنڈو اللہ یار کی تحصیل چمبر کی یونین کونسل بیگان جاروار میں 22 ماہ کے بچے کو پولیو کی علامات ظاہر ہونے پر صحت مرکز لایا گیا تھا اور پولیو کی تصدیق کے لیے نمونے جمع کیے تھے۔ تاہم پولیو سے متاثر ہونے کی تصدیق سے قبل ہی بچہ جاں بحق ہوگیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ سندھ میں پولیو کا دوسرا کیس ضلع سندھ کی تحصیل نیو سکھر کی یونین کونسل راہوجا کی رہائشی 84 ماہ کی بچی میں سامنے آیا۔ عہدیدار نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی تحصیل ٹانک کے رہائشی 15 ماہ کے بچے میں جبکہ بنوں میں یونین کونسل سکندر خیل بالا کے علاقے میں 17 ماہ کی بچی میں پولیو کی تشخیص ہوئی۔ نیشنل ایمرجنسی سینٹر (ای او سی ) برائے پولیو کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے  بات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 میں متعدد عوامل کی وجہ سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔  انہوں نے کہا کہ ’ دسمبر میں کامیاب ملک گیر انسداد پولیو مہم کے ذریعے ہم نے پولیو کے خلاف جنگ کا نیا آغاز کیا ہے جو جنوری سے اب تک پہلی کامیاب مہم ہے کیونکہ پشاور میں پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اپریل کی مہم متاثر ہوئی تھی جس میں کچھ لوگوں نے ڈراما کیا تھا کہ پولیو ویکسین سے اسکول کے بچے متاثر ہوئے تھے‘۔ ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ ’ فرور ی اور اپریل 2020 میں معمول کے ٹیکوں کی کوریج کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک گیر مہمات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو پولیو وائرس میں اضافے کی لہر کا رخ بدل سکتے ہیں‘۔

Facebook Comments