85

دھڑکنوں کی زبان ….. محمد جاوید حیات …….پی ڈی سی کا ایک اور کارنامہ

پی ڈی سی جو چترال میں سرکاری پرائمری سکولوں میں تعلیم و تدریس کوبہتر بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔۔یہ آغا خان یونیورسٹی کے تعاون سے پسماندہ ضلعوں میں کارہائے نمایان انجام دے رہی ہے اس لئے کہ ا ن علاقوں میں سکولوں میں وہ سہولیات نہیں ہیں جو شہری علاقوں میں ہیں۔یہ پیشہ ورانہ تربیت کا ادارہ پہلے اساتذہ کوتربیت دیتا ہے۔پھران اداروں میں ہر لحاظ سے سہولیات باہم پہنچا رہاہے خواہ وہ کمروں کی کمی ہو،تدریسی معاونات کی فراہمی ہو،اساتذہ کے حوالے سے مسائل ہوں۔ای سی ڈی کلاسس شروع کرناہو۔اس ادارے کے پروجیکٹ سکولوں میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات مہیا ہیں۔گورنمنٹ پرائمری سکول ہمیشہ سے مسائل کاآماجگاہ رہے ہیں ان میں بنیادی سہولیات کا فقدان رہا ہے۔اساتذہ اور کمروں کی کمی تعلیمی عمل میں بڑی رکاوٹ تھی۔ پی ڈی سی نے یہ مہا کام اپنے سر لیا ہے بچوں کی بنیاد ی تعلیم متاثر ہو رہی تھی۔ان کا”پرائم ٹائم“ ضائع ہورہا تھا۔پرائمری تعلیم نہایت بنیادی چیز ہے اس وجہ سے سرکاری سکولوں میں تعلیمی عمل پرسوال اٹھائے جاتے ہیں۔ہمارے سرکاری اداروں میں جب تک پرائمری تعلیم بہتر نہ ہوگی آگے بچوں کی تعلیم وتعلم میں نقص ہی رہیں گے۔۔اس سلسلے میں پی ڈی سی نے پہلے ہنگاہی اور آزمائشی بنیادوں پر چترال میں دو سو کے قریب سکولوں کے اساتذہ کو تربیت دی اور ان سکولوں میں بنیادی ضروریات کوپورا کیا۔ان پروجیکٹ سکولوں میں بہت بہتر نتائج بر آمدہوئے۔تعلیمی عمل بہت بہتر ہوا اساتذہ میں ولولہ اور شوق پیدا ہوا۔نئے طریقے رائج ہوئے تو کام میں معیار آگیا۔ا س سے پہلے سکولوں میں مجبوری کی وجہ سے روایتی طرز تدریس رائج تھا اب عملی (پریکٹکل) طریقہ استعمال ہو رہاہے ای سی ڈی کلاسس شروع ہوئی ہیں۔تدریسی معاونات سکولوں کو مہیا کی گئی ہیں۔بچوں کی اسسمنٹ ہوتی ہے ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سکولوں میں ایس ڈی پی(سکول ڈیولپمنٹ پلان) بنائے گئے ہیں اس کے مطابق ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔سی ائی ٹیز تعلیمی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔۔پی ڈی سی میں ماہریں تعلیم اساتذہ کی تربیت کے لئے موجود ہیں۔محترم عبدالولی خان یفتالی،محترم گوہر صاحب،محترم شیر افضل صاحب،محترم اسد صاحب، محترمہ فرمان نساء صاحبہ،محترمہ کرن،محترمہ منیرہ شاہ صاحبہ اور ان کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی سے اور محکمہ تعلیم سے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ان ٹرینگز سے اساتذہ کو نصاب اور طریقہ تدریس کے مسائل حل ہوتے ہیں۔تعلیم و تدریس ایک مسلسل عمل کا نام ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق معلم کو اپنی تدریس میں تبدیلی لانا پڑتا ہے۔اس لئے ایسی ٹرینگز کی شدت سے ضرورت محسوس ہورہی تھی جو روایات سے ہٹ کرہوں۔پی ڈی سی اس سلسلے میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
حال ہی میں تدریس سائنس کے سلسلے میں چترال کے مختلف پرائمری سکولوں میں سائنسی نمائش (سائنس اکزبیشن) کا انعقاد ہوا۔یہ نمائش گرم چشمہ،کھوت،بریر،بمبوریت،ایون،مدکلشٹ،مستوج کے کئی سکولوں کے درمیان منعقد کی گئی۔ان میں پرائمری سکولوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔۔خوش آئندبات یہ کہ ان سکولوں کے اساتذہ نے بڑے شوق سے بچوں کو تیار کیا۔ان کی رہنمائی کی اور بچوں نے بے مثال کار کردگی کامظاہرہ کیا۔ ان بچوں کا اپنے پروجیکٹ کو تیار کرنے لگانے اور منصوبے کی تفصیل بتانے اور لوگوں کے سوالات کے جوابات دینے کا انداز لاجواب تھا۔ اکزبیشن کے دن پی ڈی سی کے کویٹ ممبرز،سی آئی ٹیز،متعلقہ سکول کے اساتذہ اور پی ڈی سی کاایک نمائندہ حاضر ہوتا۔۔جیتنے والے بچوں کوانعامی شیلڈدئے گئے مختصر تقریب منعقد کرکے اساتذہ اور بچوں کی محنت کو سراہا گیا۔یہ پرائمری سکولوں میں نیا اور کامیاب تجربہ تھا اور بہت حوصلہ افزاء اور کامیاب تجربہ تھا۔۔بچوں کا شوق اور صلاحیت دیدنی تھی۔اور انشاء اللہ اگر ان سکولوں میں اسی طرح محنت جارہی رہی تو گورنمنٹ سکولوں میں بے مثال تعلیم و تدریس کا آغاز ہو گا اور یہ پی ڈی سی کی کوششوں کا نتیجہ ہو گا ۔۔

Facebook Comments