82

عسکریت پسندی دہشت گردی کا دوسرا نام ہے ، چیف جسٹس

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاہے کہ عسکریت پسندی دہشت گردی کادوسرا نام ہے ، دنیا اس کا مسئلہ کاحل نکالنا چاہتی ہے ۔   اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دہشت گردی کی سیاسی، نظریاتی یا مذہبی وجوہات ہوتی ہیں ،عسکریت پسندی دہشت گردی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا دہشت گردی کے مسائل سے لڑ رہی ہے۔ اس بات پر ریسرچ کی جا رہی ہے کہ اس مسئلہ کاکیا حل نالا جائے ، دہشت گردی کی سیاسی، نظریاتی اور مذہبی تین وجوہات ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جوڈیشل اکیڈمی اتنا اچھا کام کر رہی ہے ، انویسٹی گیشن پر کام ہوا، ریسرچ پر کام ہوا پہلا ریسرچ سائیکل مکمل ہو گیا ہے، ماڈل کورٹس کے ججز ایمانداری سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومیں تحقیق سے سیکھتی ہیں اور تحقیق کسی بھی معاشرے کے لیے ضروری ہے، ججز اب تحقیقی کام بھی سر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا کہ اچھے اور قابل ججو ں کوتعینات کیا جائے ۔

Facebook Comments