123

حکومت جنرل باجوہ کیلئے ایک ووٹ بھی نہیں لے سکے گی، اعتزاز احسن

لاہور( آوازچترال نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ حکومت جنرل باجوہ کیلئے ایک ووٹ بھی نہیں لے سکے گی، اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا تو نئے آرمی چیف آئیں گے، عمران خان کے آسان راستہ ہوگا کہ وہ دوسرے جرنیلوں سے ملاقاتیں شروع کردیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی احمد کرد کو سخت نہیں کرنی چاہیے تھی،پی آئی سی واقعے میں پیپلزپارٹی کا کوئی وکیل نظر نہیں آیا۔حسان نیازی کو چاہیے کہ وہ خود کو پولیس کے سامنے پیش کرے۔پی آئی سی واقعے کی تحقیقات کیلئے لارجر بنچ بننا چاہیے۔شیخ رشید صرف جملہ کسنے کے عادی ہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اچھے جج ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تعین ہوتا ہی نہیں۔عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی کیلئے حکم نہیں دے سکتی۔اس معاملے پر عدالت میں 15 سے 20دن تک بحث ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار رہا تو نئے آرمی چیف آئیں گے۔پارلیمنٹ میں نمبر گیم پر فیصلہ ہوگا۔میرا نہیں خیال کہ تحریک انصاف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے ایک ووٹ بھی حاصل کرسکے گی۔لہذا حکومت ووٹ لینے کی بجائے دوسرا راستہ اختیار کرے گی، جنرل باجوہ تو اب بغاوت نہیں کرسکتا۔ عمران خان کے آسان راستہ ہوگا کہ وہ دوسرے جرنیلوں سے ملاقاتیں شروع کردیں۔دوسری جانب سینئر قانون دان خالد رانجھا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتی ہے تو نظرثانی اپیل کابہت کم امکان ہوتا ہے کہ منظور ہوجائے ۔میں نہیں سمجھتا کہ حکومت یہ اقدام اٹھائے گی کہ نظر ثانی اپیل دائر کرے اور پھر اس کوخارج کروا کے گھر آجائے۔اورجو ان کی ساکھ بچی ہے وہ خراب ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ حکومت آگے کی طرف بڑھے گی،سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن مانے گی اور مزید چھڑ چھاڑ نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگتی ہے تو عین ممکن ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کو مزید وقت نہ دے کیونکہ کسی بھی قانون سازی کیلئے حکومت کے پاس 6ماہ کا وقت بہت زیادہ ہے۔خالد رانجھا نے بتایا کہ اگر نئے چیف جسٹس کی تعیناتی پر بھی حکومت نظرثانی اپیل میں جاتی ہے تو سپریم کورٹ کے قواعدہیں، کیس کو مدنظر رکھ کرتمام چیزوں کو دیکھا جاتا ہے۔ نظرثانی میں تو شاید 10ہزار کیسز میں ایک کی نظرثانی منظور ہوتی ہے۔خالد رانجھا نے ایک سوال پر کہا کہ اگر حکومت اس نکتے کولے کرنظرثانی کرے گی کہ سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کو حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں تو نظر ثانی اپیل فوری خارج ہوجائے گی۔

Facebook Comments