150

صوبوں نے ترقیاتی کام کرنے کے بجائے 2 کھرب 2 ارب روپے وفاق کو واپس کردیے

اسلام آباد:(آوازچترال رپورٹ) چاروں صوبوں نے مل کر2 کھرب 2 ارب روپے کی رقم وفاقی کو فراہم کی ہے تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مقرر کیے گئے مالیاتی اہداف پورے کیے جاسکیں۔   رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ صوبوں نے وفاق کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے فنڈز میں سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک چوتھائی (25 فیصد) سے زائد رقم استعمال نہیں کی۔ اس طرح صوبوں نے مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی میں وفاق کو واپس کیے جانے والے فنڈز کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 2 کھرب 2 ارب روپے واپس کردیے جو سالانہ ہدف 4 کھرب 23 ارب روپے کا 48 فیصد ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں صوبوں کی مجموعی آمدن 7 کھرب 91 ارب روپے تھی اس میں فیڈرل ریونیو میں کی مد میں ان کا مشترکہ حصہ 6 کھرب 12 ارب 50 کروڑ روپے ہے جبکہ صوبائی ٹیکسز 1 کھرب 4 ارب 50 کروڑ روپے ہے۔  اس کے برخلاف صوبوں نے صرف 5 کھرب 89 ارب روپےخرچ کیے جبکہ 2 کھرب 2 ارب وفاق کو دیے گئے یوں صوبائی حکومتوں نے اپنے ترقیاتی کاموں پر صرف 70 ارب روپے خرچ کیے۔ اس صورت میں صوبوں کو دستیاب آمدن میں سے ترقیاتی کاموں پر اخراجات کی شرح محض 9 فیصد رہی۔ دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا اس کی اتحادی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں نے ترقیات اخراجات کی مد میں زیادہ کفایت شعاری سے کام لیا اور وفاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مالی تعان کیا۔  مثال کے طور پر پنجاب نے 3 کھرب 66 ارب روپے کی مجموعی آمدن کا 21 فیصد یعنی 75 ارب 40 کروڑ روپے وفاق کو دیے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر 12 فیصد سے بھی کم 43 ارب روپے خرچ کیے۔ دوسری جانب حکومت خیبرپختونخوا نے اپنی کل آمدن ایک کھرب 41 ارب روپے کا 38 فیصد یا ایک تہائی سے زائد 54 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جبکہ اس آمدن کا 6 فیصد سے بھی کم حصہ تقریباً 8 ارب 40 کروڑ روپے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیے۔ اسی طرح بلوچستان نے اپنی آمدن کا سب سے زیادہ یقنی 43.4 فیصد یا 37 ارب 30 کروڑ روپے وفاق کو واپس کیا جبکہ ملک کے سب سے پسماندہ صوبے میں اپنے وسائل کا انتہائی معمولی 4.3 فیصد یعنی 3 ارب 70 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کی مد میں خرچ کیے۔  ان سب کے برخلاف سندھ نے سب سے کم یعنی 35 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کیے جو اس کی مجموعی آمدن کے 18 فیصد حصے سے بھی کم ہے جبکہ سندھ حکومت نے اپنی آمدن کا 8 فیصد یا 16 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے۔ آئی ایم ایف نے سرکاری خزانے کے موثر انتظامات اور عوام کے لیے کیے گئے اخراجات کا میعار اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صوبوں کے اخراجات کو محدود کردیا تھا تا کہ وفاق کی زیادہ سے زیادہ مدد ہوسکے۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے تحریر معاہدہ کیا تھا کہ صوبوں کے ذریعہ مالی استحکام اور محصولات میں توسیع اس کے مالی حکمت عملی کا کلیدی جزو ہوگی۔

Facebook Comments