77

نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے ان کی درست سمت میں رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔مشتاق احمد خان چترال میں جے آئی یوتھ سے خطاب

چترال( نمائندہ آوازچترال )جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ دنیا میں جنگیں بندوق اور ٹینک کے بجائے اب ٹیکنالوجی،علم وہنر میں مہارت اور نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی صورت میں جیتی جاتی ہیں۔انسانیت،تعلیم،اخترام اور باہمی رواداری کو پروان چڑھا کر ہی دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔قوموں کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار ہردور میں مسلمہ رہا ہے۔تبدیلی کا خواب نوجوانوں کے بغیر شرمندہ تعبیر ہوناممکن نہیں ہے۔نوجوانوں کا پلڑا جس طرف ہوگا کامیابی اسی کی ہوگی،ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کا کردار ہمالیہ سے بھی اونچا ہو اور ان کے ہاتھوں سے سگریٹ اور بندوق چھین کر انہیں قلم اور کتاب تھمادے تاکہ وطن عزیز پاکستان کوترقی یافتہ اقوام کی صف میں لاکھڑا کر سکے۔جے آئی یوتھ کے جوان قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے احتجاج کے حق کو اس انداز میں استعمال کریں کہ آپ ظلم کا راستہ روک لیں۔آئین پاکستان کی دفعات 17اور19نے ہمیں حق دیا ہے کہ ہم پرامن احتجاج اور اظہار رائے کی آزادی کے زریعے ظلم کے خلاف مظلوم کی آواز بنے۔ان خیالات کا اظہار سینٹر مشتاق احمد خان نے چترال میں جے آئی یوتھ کے زیر اہتمام تقریری مقابلے کے بعد تقسیم انعامات کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمن پراچہ،ضلع چترال کے صدر وجیہ الدین سمیت دیگر مقامی قائدین بھی موجود تھے۔ سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ چترال صرف پہاڑوں کے درمیان آباد ضلع کا نام نہیں بلکہ یہ ایسے غیرت مند مسلمانوں کا ضلع ہے کہ اس کی ایک زندہ تاریخ ہے انہوں نے کہا کہ میں دنیا بھر میں جہاں بھی جاتا ہوں تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے وہاں کی تاریخ اور جغرافیہ کا مطالعہ ضرور کرتاہوں برطانیہ دورے کے موقع پر میں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں انگریز تاریخ دان کی مشہور کتاب کامطالعہ کیا جس میں ہمارے ملک کے حوالے سے لکھا تھا کہ انگریز نے یہاں پر 100سال حکومت کی اور 100جنگیں لڑی۔اس کتاب کا آغاز جس باب سے کیا گیا اس کا نام خوفناک قلعہ ہے اور اس سے مصنف کی مراد چترال ہے۔آپ کے قلعوں سے ماضی میں بھی دشمن نے خوف کھایا ہے اور آج بھی ان پہاڑوں کے اندر بسنے والے جونوانوں سے انہیں خوف ہے۔انہوں نے کہا کہ چترال امن خوشخالی اور دین سے لگاؤ رکھنے والے باصلاحیت افراد کا وہ علاقہ ہے کہ جس کے باسی پورے ملک میں اپنی صلاحیت کا لوہا منواچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد64فیصدہے اور ماہرین کے مطابق 2050ء تک پاکستان میں یوتھ کا یہی تناسب رہے گا جوکہ اللہ تعالی کی طرف سے پاکستان پر بہت بڑا انعام ہے۔لیکن بدقسمتی سے حکمرانوں نے ہر دور میں اس نعمت سے وہ استفادہ نہیں کیاجو وقت اور حالات کا تقاضا تھا۔آج دنیا میں جو قومیں اپنی یوتھ پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں وہ قومیں ترقی کی بلدیوں پر ہیں۔مشتاق احمد خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نقیب اللہ محسود جیسے نوجوان کا قتل ہوتا ہے اس کا بوڑھا باپ انصاف کے حصول کی کوششوں میں انتقال کر جاتا ہے اور نقیب اللہ محسود کا کمسن بیٹا پہلے اپنے والد اور اب اپنے دادا کو قبر میں اتارتے ہوئے جن احساسات کے ساتھ جوان ہو رہا ہے حکومت کو اس کا ادراک ہونا چاہئے۔

Facebook Comments