83

پشاور بی آرٹی کی تحقیقات کا ٹاسک واجد ضیاء کو مل گیا

 اسلام آباد(آوازچترال نیوز) پشاور بی آرٹی کی تحقیقات کا ٹاسک واجد ضیاء کو مل گیا،واجد ضیاء کیلئے بطور ڈی جی ایف آئی اے شفاف تحقیقات کرنا چیلنج ہوگا،پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو45روز میں بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایف آئی اے میں زیرالتواء کیسز نمٹانے اور بالخصوص ن لیگ کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف کے اقامہ کیس کی تحقیقات کیلئے پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا ء کو ایف آئی اے کا ڈی جی تعینات کیا ہے، تاکہ محکمے میں شفافیت کے ساتھ زیرالتواء کیسز کو نمٹایا جائے اور سائبرکرائمز سمیت منی لانڈرنگ کو بھی روکنے کیلئے سخت اقدامات کیے جاسکیں۔لیکن پشاور ہائیکورٹ نے بی آرٹی منصوبے میں تاخیر درتاخیر اور لاگت بڑھنے کی غفلت کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔ بطورنئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا ء کیلئے بی آرٹی کی تحقیقات ٹیسٹ کیس بن گیا ہے۔جس میں شفاف تحقیقات کرکے وہ خود کو اچھا آفیسر ثابت کرسکتے ہیں۔بی آرٹی منصوبے سے متعلق سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی آرٹی منصوبہ کا پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ تحقیقات کروائی جائیں، ایف آئی اے کے نئے ڈی جی واجد ضیاء کوپہلی ذمہ داری مل گئی کہ وہ تحقیقات کروائیں لیکن حکومت اس فیصلے خلاف سپریم کورٹ جارہی ہے کہ تحقیقات رکوائی جائیں۔ جبکہ تحقیقات تو ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں قائل ہوں کہ بی آر ٹی میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی، بی آر ٹی کمال کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 20اور 25کے درمیان ایسے ارکان ہیں، جو عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیں گے، یہ اتحادیوں کی بات نہیں کررہا ، بلکہ یہ اراکین تحریک انصاف کے اپنے ہیں۔اگر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو پی ٹی آئی کے اپنے ارکان ساتھ چھوڑ دیں گے، یہ ارکان کسی بیماری یا دیگر وجوہات کی بناء پر ووٹ نہیں کریں گے،ووٹوں کی گنتی میں 25تک ارکان غائب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ خبر ہے عمران خان کو چاہیے کہ اپنے ذرائع سے ان کے پاس ایجنسیاں بھی ہیں، اس خبر کو چیک کروا لیں،کہ متعدد ارکان اپنے قبلے تبدیل کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا سب سے بڑا محاذ جس کو وہ خود سپروائز کررہے ہیں، پنجاب میں عثمان بزدار سے ہٹ کرعمران خان نے بیوروکریسی سے براہ راست خود رپورٹ لینا بھی شروع کی ہے۔ جس بیوروکریسی سے عمران خان جو رپورٹ لے رہے ہیں وہ پل پل کی رپورٹ لندن میں بھی بھیج رہی ہے۔

Facebook Comments