41

سر کاری ریسٹ ہاؤ سز محکمہ سیاحت کی ملکیت میں دینے کا فیصلہ

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔خیبر پختونخوا حکو مت نے تمام سر کاری ریسٹ ہاؤسز اور سیاحتی جائیدادوں کو محکمہ سیاحت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ٗ یہ تمام جائیدادیں منتقل ہو نے کے بعد محکمہ سیاحت کی ملکیت بن جائیں گی ٗ بتا یا گیا ہے کہ سیاحتی جائیدادوں سے متعلق نئی قانون سازی کی جا رہی ہے یہ قانون سرکاری ریسٹ ہاؤ سز اور سیاحتی جائیدادکا ریگولیشن مانیٹرنگ اور منیجمنٹ ایکٹ 2019ء کہلائے گا ٗ اس قانون کے تحت صو بائی محکمے جب چاہیں سر کاری اراضیاں محکمہ سیاحت کے حوالے کی جا سکتی ہیں ٗاس طرح یہ جائیداد منتقل ہو نے کے بعد محکمہ سیاحت کی ملکیت بن جائے گی۔ بتا یا گیا ہے کہ متعلقہ ریونیو ایکٹ میں تر میم کر کے جائیداد الاٹ کی جائے گی ٗمحکمہ سیاحت کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ اس کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے آگے لیز پر دے ٗاس سلسلے میں صو بائی حکو مت کی لیز پالیسی کا اطلاق ان جائیدادوں پرنہیں ہو گا ٗاگر متعلقہ محکمہ جس کو جائیداد منتقل کی گئی ہو تو حکو مت کی پیشگی اجازت سے ان جائیدادوں کے ڈھانچے میں ضروری رد و بدل کر سکتا ہے ٗان جائیدادوں کی منتقلی کے ساتھ ہی ان میں موجودفرنیچر اور دیگر سامان بھی متعلقہ محکمے کو منتقل ہو کر اس محکمے کی ملکیت ہوں گی۔ ان ریسٹ ہاؤسز وغیرہ میں کام کر نے والے اہلکار بھی اس محکمے کے ملازم تصور ہوں گے سر پلس ملازمین کو سرپلس پول میں رکھاجائے گا اور حکومت کی پالیسی کے مطابق ان کو ایڈجسٹ کیا جائے گا ٗبلدیاتی اداروں کے ریسٹ ہاؤسز کے اہلکاروں کی ملازمت کے بارے میں محکمہ سیاحت اور لیز ہو لڈرزکے مابین معاملات طے کئے جائیں گے اس قانون کے اجراء کے ساتھ ہی ان جائیدادوں سے متعلق سابقہ قانون منسوخ تصور ہوں گے ٗیہ مسودہ قانون صو بائی کابینہ کی منظوری کے بعد صو بائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جسے ایک ایکٹ کی صورت میں منظورکیا جائے گا۔