32

دھڑکنوں کی زبان ……. محمد جاوید حیات …….. ملک ریاض

انسان فانی ہے۔۔اور ہرلحاظ سے کمزور بھی۔۔۔اگر عقل،شعور اور دوسری صلاحیتوں سے محروم ہوتاتو بہت بے حیثیت ہوتا اس لئے کہ اس کی جسمانی ساخت بہت ساری مخلوقات سے کمزور ہے کسی کا کیا مقابلہ کرتا۔۔اللہ نے اس کواشرف بنا کر واقعی میں زمین میں اپنا نائب بنایا ہے۔۔اس کو کائنات کی تسخیر کی طاقت دی اور پھر زمین میں مل جل کر رہنے پہ مجبور کردیا۔۔انسان معاشرتی حیوان (اگر انیلمل کی جگہ ایلیمنٹ)کہا جائے کیونکہ اس کی پیدائش پھر اس کی بڑھوتری اس کی پرورش کا عمل بے غیرسہارے کے ممکن نہیں۔اب ایک ایسی مخلوق جو ایک لحاظ سے بے سہارا ہے ایک دوسرے کے سہارے سے جی سکتا ہے۔اور اسی کو بنیاد بنا کرکامیاب انسان کی پہچان ایک دوسرے کی مدد،خیر خواہی،صلہ رحمی،ایثار و قربانی وغیرہ اوصاف سے متصف ہونا ہے۔۔دنیا میں ایسے عظیم لوگوں کی فہرست لمبی ہے جو اپنے سے زیادہ دوسروں کے لئے جیئے اور مر کر بھی زندہ رہے۔۔ملک ریاض ان لوگوں کی فہرست میں اپنے آپ کوشامل کر گئے ہیں۔ان کے بارے میں ہم نے صرف سنا ہے اور اس کی خیر سگالی کی سرگرمیوں کو سن کرسر دھنا ہے۔۔ملک ریاض ایک دولت مند شخصیت ہیں۔۔ان کا بہت پھیلا ہوا کارو بار ہے۔لازم ہے کہ بے تحاشا دولت کما رہا ہوگا مگر اس کو احساس ہے کہ آخر ایسی دولت سے فائدہ کیا جو دوسروں کے کام نہ آئے۔یہ احساس اس کو فلاحی کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔۔و ہ زمین خرید کر اس میں گھر بناتا ہے پھر لوگوں کو بساتا ہے۔ان گھروں کے اندر ساری سہولیات ہیں۔اور کہتے ہیں غریبوں کی مدد کرتا ہے۔ان کو چھت مہیا کرتا ہے۔ان کے لئے جینا آسان کردیتا ہے۔ان کے کچھ انٹرویوز آئے کہ وہ فلاح ہی کی بات کی ہے۔۔ان کا دعویٰ ہے کہ اگر انسان کچھ کرنے پہ آئے تو دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں۔اگر خلوص اور صداقت ہو تو ہرکام میں اللہ کی مدد ضرور ہوتی ہے۔ان کواس بات پہ یقین ہے کہ اپنی دولت میں حقداروں کو شامل کرو تو اور کامرانیاں ملیں گی۔۔ملک ریاض ہم جیسی ایک ضرورت مند قوم اور ایک ترقی پذیر ملک کے لئے ایک رحمت سے کم نہیں جو کام جو خدمت حکومت سے ممکن نہیں ہو سکتی وہ اس کمی کوپورا کرتا ہے۔۔انھوں نے بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبے سے کتنے لوگوں کو آرام سے زندگی کی رونقیں بخش دیں ہیں۔یہ اس کا بڑا پن ہے کہ اپنے آپ کو کوشش کرکے سیاسی دھندوں سے بچا کررکھا ہے پھربھی کھینچا تانی ہوتی ہے وفا داریاں جتانے کی کیا کیا سعی ہوتی ہیں لیکن ان کی انفرادیت بر قرار ہے۔۔کچھ اس کی شہرت کو اشتہار کرنے والے صاحباں کی بھی کارستانیاں سامنے آئیں مگر اس نے ہر قسم کا رکارڈ رکھ کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا ہے۔اس کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے۔ان کی راہ میں روڑے نہ اٹکائی جائیں تب فائدہ ہے۔۔فالحال اس کی زندگی ایک پھلدار درخت کی مانند ہے خواہ وہ سوکھے صحرا میں بھی ہو اس کے سائے اور میوں سے مستفید ہونا لازم ہے۔ملک ریاض ایک فرد ضرور ہیں لیکن بہت سارے افراد کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کا اعزاز اس کوحاصل ہے۔۔جس کی امیدیں ان سے وابستہ ہیں کم از کم آپ کو ان تک محدود رکھا جائے۔۔دنیا کے دوسرے ممالک میں جو لوگ فلاحی کا م کا بیڑا اُٹھاتے ہیں توپہلے حکومت خود اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔پھرپورا معاشرہ اس کی راہیں آسان کرنے میں مدد کرتا ہے۔ہمارے ہاں بھی وہیں ہونا چاہیے۔۔ہم اس شکایت سے نہیں نکلے کہ ہماری دولت باہرلے جائی جاتی ہے۔ہمارے مخیرحضرات فلاحی کام نہیں کرتے۔۔اگر کوئی اللہ کا بندہ ایسا کام کرتا ہے تو اس کا دست و بازو بننا چاہیے۔۔ملک ریاض اگر ایک بے گھر بے در کی مددکر رہا ہے تو وہ ہر لحاظ سے تعریف و ستائش کے مستحق ہیں اس غریب کی اس کے لئے ساری زندگی نیک خوہشات اور دعائیں اپنی جگہ وہ ایک لحاظ سے قوم کی خدمت کر رہا ہے۔۔زندگی ایک دوسرے پہ انحصار سے آگے بڑھتی ہے ایک مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ اپنی دولت میں،اپنے راحت و آرام میں،اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک رکھے تب جا کے اس کی زندگی کی قیمت بنتی ہے۔وہ لوگ تاریخ میں مرکربھی امر ہو جاتے ہیں جو فلاح انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔۔ملک ریاض اس لحاظ سے اپنی زندگی کو قیمتی بنا رہے ہیں۔اس کی دولت دوسروں کے کام آئے۔اس کے دستر خوان میں دوسروں کا رزق ہو۔اس کا ہاتھ ”اوپر والاہاٹھ“ ہو جس ہاتھ کو رسول مہربان ﷺ نے بہتر کہا ہے۔اس سے غریبوں کے ساتھ میری بھی دعائیں ان کے ساتھ ہیں اللہ ان کی دولت میں برکت دے۔اس کو مذید کامرانیاں عطا کرے۔اور اس کو غریبوں کا دست راست بنا دے۔۔