28

اس سال پولیو میں مبتلا بچوں کی تعداد میں کئی سو گنا اضافے کی وجہ سے چترال میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں..ڈاکٹر فیاض رومی

چترال (نمائندہ آوازچترال ) 16سے 20دسمبرتک پولیو کے خلاف مہم کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیو ایریڈیکیشن کمیٹی (ڈپیک) کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس) محمد حیات شاہ کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ای پی آئی کوارڈینیٹر ڈاکٹر فیاض رومی اور مختلف محکمہ جات کے افسران اور ضلعے کے اکثر یونین کونسلوں کے مانٹیرنگ افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر بتایاگیا کہ ضلع میں پانچ سال سے کم بچوں کی تعداد 71ہزار 467ہے جبکہ ٹارگٹ گھرانوں کی تعداد 63ہزار ہے۔ ڈاکٹر فیاض رومی نے کہاکہ اس سال پولیو میں مبتلا بچوں کی تعداد میں کئی سو گنا اضافے کی وجہ سے چترال میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں جبکہ پولیو کے نو ٹائپ ٹو کیس سامنے آنا مزید تشویشناک ہے جن کے خلاف ویکیسن بھی روٹین کے مہم میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگلے مہم میں سامنے آنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکمہ جات کی طرف سے گاڑیوں کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر، ارندو اور عشریت کے یونین کونسلوں میں ہر پولیو ٹیم کے ساتھ سرکاری اہلکارکی عدم دستیابی، موسمی حالات اور برفباری کا حدشہ اس مہم کو متاثر کرسکتے ہیں۔ محمدحیات شاہ نے کہاکہ پولیو ایک قومی ایمرجنسی ہے جس کے ساتھ نمٹنے کے لئے ہمیں تمام تر توانائیاں اور وسائل کو بروئے کار لانا ہے تاکہ ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلایا جاسکے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پولیو کے خلاف مہم کو موثر اور کامیاب بنانے میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے پولیو مہم سے وابستہ افسران اور اہلکاروں پر زور دیاکہ اس مہم کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت، سستی اور کاہلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز چترال محی الدین نے کہاکہ مہم کے دوران جامع سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔