34

نالائق تو انتہائی نالائق نکلے!!….انصار عباسی

نالائق تو انتہائی نالائق نکلے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے سادہ سے معاملہ کو اسکینڈل بنا دیا گیا۔ اب تو سپریم کورٹ تک‘ ریکارڈ کے ذریعے یہ بات ثابت ہو چکی کہ نالائق تو ایک نوٹیفکیشن کرنے تک کی قابلیت نہیں رکھتے۔   سی نے سوشل میڈیا یہ خوب تبصرہ کیا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والے اتنے نالائق نکلے کہ اُنہوں نے تو پاکستان کی سب سے پکی نوکری کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔  سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامے میں نہ صرف یہ کہہ دیا کہ حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن ناقص ہے بلکہ یہ تفصیلات بھی بتائیں کہ نالائقوں نے کس طرح آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملہ میں ایک کے بعد ایک غلطی کی۔  وزیراعظم نے جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت کی توسیع کا آرڈر 19اگست 2019ء کو منظور کر دیا تو کسی نے نالائقوں کو بتایا کہ یہ اختیار تو صدرِ مملکت کا ہے جن کو وزیراعظم ایڈوائس کر سکتے ہیں۔ گویا اپنی غلطی کے ادارک پر وزیراعظم آفس کی طرف سے اُسی روز ایک سمری جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے لیے تیار کی گئی اور اُسے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا۔  صدرِ مملکت نے اُسی روز یعنی 19 اگست کو ہی وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے جنرل باجوہ کو تین سال کی ایکسٹینشن دے دی۔ ایک بار پھر نالائقوں کو کسی نے بتایا کہ پھر غلطی ہو گئی ہے کیونکہ ایسا فیصلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔  اس پر اگلے روز یعنی 20اگست کو فیصلہ ہوا کہ فوری طور پر کابینہ سے اُس فیصلے کی منظوری لی جائے، جس کو صدرِ مملکت پہلے ہی منظور کر چکے ہیں۔ نالائقوں کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ کابینہ کی میٹنگ بلائی جاتی، اس لیے فیصلہ یہ ہوا کہ کابینہ کے اراکین سے By Circulation آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے کیس کی توثیق کرا لی جائے۔  اس سارے معاملے کو اس قدر مضحکہ خیز انداز میں ہینڈل کیا گیا کہ اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ کے سامنے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ قانون میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق کوئی شق موجود نہیں۔ آرمی ریگولیشن رولز کے رول نمبر 255 کا حوالہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس رول کے تحت جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی منظوری دی گئی۔ عدالت اس بات پر بھی حیران تھی کہ نالائقوں نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کے لیے وجہ ’’علاقائی سیکورٹی صورتحال‘‘ بیان کی، جس پر عدالتِ عظمیٰ کا کہنا تھا کہ یہ وجہ کوئی ٹھوس نہیں، اور اگر اس وجہ کو مان لیا جائے تو پھر تو ہر آرمی افسر کہے گا کہ اُسے ایکسٹینشن دی جائے۔ گزشتہ روز کے فیصلے پر نالائقوں نے فوری کارروائیاں شروع کیں تاکہ اُن خامیوں کو دور کیا جا سکے جن کا ذکر عدالت نے اپنے منگل والے دن کے حکم میں کیا۔ کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی، ایک بار پھر کابینہ سے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی منظوری لی گئی، آرمی ریگولیشن رول نمبر 255 میں تبدیلی بھی منظور کی گئی جس میں ایکسٹینشن کے نکتہ کو شامل کیا گیا۔  یہ سب کچھ کرکے جب نالائقوں نے اپنا کیس سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا تو پتا چلا کہ آرمی ریگولیشن کے رولز میں جو تبدیلی کی گئی ہے، اُس کا تو کوئی تعلق آرمی چیف کی ایکسٹینشن سے ہے ہی نہیں۔ اگر ایک نوٹیفکیشن کے معاملے کو حکومت سنبھال نہیں سکتی تو پھر یہ سوال تو بنتا ہے کہ یہ لوگ حکومت کیسے چلا رہے ہوں گے۔  یہ تو عدالت عظمیٰ کی مہربانی ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے معاملے کا بگاڑ عوام کے سامنے آ گیا ورنہ کسی کو کیا معلوم کہ حکومتی فائلوں میں اس حکومت کی کیسی کیسی غلطیاں چھپی ہوئی ہیں اور اُن کا ملک و قوم پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ پہلے ہی معیشت اور طرزِ حکمرانی پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز اگرچہ میڈیا سمیت پوری قوم کی توجہ عدالت عظمیٰ پر مرکوز رہی، اُسی روز حکومت نے پنجاب کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو ایک بات پھر تبدیل کر دیا۔  ماضی میں نالائق تو سول ملازمین کی مدتِ ملازمت کے تحفظ کی بات کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن گزشتہ 15مہینوں کی اپنی حکومت کے دوران صرف پنجاب میں چار یا پانچ آئی جی پولیس تبدیل کیے گئے اور کم از کم تین چیف سیکریٹریز کو بدلا گیا۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں سرکاری ملازمین کو بار بار بدلا جا رہا ہے۔  نالائق سمجھتے نہیں کہ مسئلہ افسران کے ساتھ نہیں بلکہ کہیں اور ہے۔ سب کو پتا ہے کہ عثمان بزدار کو تبدیل کیے بغیر پنجاب کے حالات بد سے بدتر ہی ہوتے جائیں گے لیکن بزدار کو تو وسیم اکرم پلس کا درجہ دے کر سب پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، عثمان بزدار کو نہیں بدلا جائے گا۔  یہاں تو وفاقی وزراء سترہ روپے ٹماٹر کا بھائو اور پانچ روپے مٹر کا بھائو بتا رہے ہیں جبکہ ایک وزیر صاحب تو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے فائدے گنوا رہے تھے۔  وزیروں کا کیا کریں کہ جب وزیراعظم عمران خان ہی عوام کو یہ بتا رہے ہیں کہ شکر کریں کہ ڈالر 250 اور 300 روپے تک مہنگا نہیں ہوا۔ ایسی باتوں پر پر کوئی کیا کہے۔ ویسے نالائقوں کو لانے والے اب تو ضرور سوچتے ہوں گے کہ ہم نے کیا کیا۔