145

لڑکوں کو چھیڑنے پر لڑکیاں گرفتار

جدہ ۔ (آوازچترال نیوز )   ہراسمنٹ کا قانون جب سے بنا ہے تو لڑکوں کے لیے مصیبت کھڑی ہو چکی ہے کیونکہ جس بھی لڑکی کا دل چاہتا ہے کبھی بھی کہیں بھی کسی پر بھی ہراساں کرنے کا الزام لگا دیتی ہیں۔ اگرچہ یہ قانون خواتین کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے مگر اس کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہی ہورہا ہے۔مگر اب اسی ہراسمنٹ اور چھیڑ خانی کے کیس میں لڑکیاں بھی گرفتار ہو چکی ہیں۔دو لڑکیاں سعودی عرب پولیس نے گرفتار کی ہیں جو لڑکوں یا آتے جاتے اجنبیوں پر پھبتی یا نازیبا جملے کستی تھیں۔سعودی عرب میں لڑکوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والی 2 پاکستانی لڑکیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔سعودی اخبار عکاظ کے مطابق جدہ پولیس نے اسنیپ چیٹ ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے پاکستانی لڑکی کو گرفتار کرلیا ہے، لڑکی پر اپنی گاڑی میں بیٹھے چہل قدمی کرنے والے نوجوانوں کو چھیڑنے اور راہگیروں پر نامناسب جملے کسنے کا الزام ہے۔   گرفتار پاکستانی لڑکی لڑکوں پر جملے کسنے کی شوقین تھی اور آتے جاتے نوجوانوں کو نازیبا جملوں سے تنگ کرتی تھی، لڑکی کی اس حرکت پر صارفین نے جدہ پولیس سے لڑکی کو ڈھونڈ نکالنے اور گرفتار کرکے آداب عامہ کی خلاف ورزی کرنے پر سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔پولیس نے حکام کی جانب سے گرفتاری کا گرین سگنل ملنے کے بعد مذکورہ لڑکی کو مدائن کے علاقے سے اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ اپنی سہیلی کے ساتھ بیوٹی پارلر سے نکل رہی تھی۔دونوں لڑکیاں اس بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہیں۔گرفتاری کے بعد ان لڑکیوں نے اسنیپ چیٹ پر ویڈیو جاری کی جس میں سوشل میڈیا صارفین اور سعودی عوام سے اپنے عمل کی معافی مانگی ہے۔ سعودی عرب کے قوانین میں چھیڑخانی کی سزا 5 سال قید اورایک لاکھ ریال جرمانہ ہے۔ تاہم واضح نہیں کہ پولیس نے لڑکیوں کو معافی مانگنے کے بعد رہا کردیا ہے یا مقدمہ چلایا جائے گا۔

Facebook Comments