44

’حکومت اور نظام کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘..مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد(آوازچترال نیوز) جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت اور نظام کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں رابطہ میں ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی جارہی ہے۔ آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ قیادت کرے گی اور ہم اپنے مؤقف پر ڈٹے رہیں گے۔  مولانا فضل الرحمن نے  کہا کہ ’آج غرور کا پہاڑ ریت کا صحرا بن گیا ہے، ہم نے ان حکمرانوں کو غرور خاک میں ملا دیا ہے، ہم ان حکمرانوں کو تسلیم نہیں کرتے، یہ کرسی پر بیٹھے رہیں لیکن عوام انہیں حکمران نہیں مانتی۔‘  مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر کرتارپور راہداری کھولنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’حکمرانوں کی نا اہلی کا یہ عالم ہے کہ ستر سالوں میں پہلی مرتبہ نو نومبر کا دن یوم اقبال محسوس ہی نہیں ہونے دیا ، پہلی مرتبہ اقبال کا دن گرو نانک کے نام ہو گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شناخت اس کا نظریہ ہے، آئین ، اسلام اور جمہوریت ہے اور کسی کو بھی اس شناخت کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے ’ایک سال کے اندر چاول کی پیداوار میں تیس سے چالیس فیصد کمی آئی ہے، کپاس کی پیدواری ہدف 8 فیصد بمشکل حاصل کیا ہے اور وزیراعظم کی زرعی ایمرجنسی کمیٹی میں کپاس موضوع ہی نہیں ہے۔‘   انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک خسارے میں جا رہا ہے، چینی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور اس کا فائدہ عدالت سے ایک نا اہل یافتہ شوگر مل مالک کو ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں فاٹا انضمام کی ایک بار پھر مخالفت کی اور کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایک سال میں فاٹا کو سو ارب دیے جائیں گے اور دس سال تک مسلسل دیے جائیں گے لیکن آج تک ایک روپیہ بھی فاٹا کو نہیں دیا گیا۔ ’این ایف سی ایوارڈ میں کوئی بھی صوبہ فاٹا کو فنڈ دینے کا حامی نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے لیے سول سپورٹ قانون لایا گیا تھا لیکن اب وہ قانون پورے صوبے میں لاگو کر دیا گیا ہے جس کے تحت لورے صوبے میں سول سپورٹ کے نام پر آرمی مداخلت کرے گی۔ ’فاٹا کا انضمام ہے یا لورے صوبے کا فاٹا میں انضمام ہے؟‘ مولانا فضل ارلحمن نے کہا کہ حکومت ہمیں کہتی ہے کہ دھاندلی کا معاملہ الیکشن کمیشن لے جائیں جو اتنا بےبس ہے کہ کمیشن جب پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس سنتا ہے تو یہ عدالت میں چلے جاتے ہیں کہ یہ کیس نہ سنا جائے۔