63

تحصیل انتظامیہ نے کورٹ کے فیصلے اوراپنے ہی سابق اے سی کے فیصلے کو پاؤں تلے روند کر میری ذاتی زمین کے گرد باڑ ہٹانے کی کوشش کی جو کہ توہین عدالت اور میرے حق کو غضب کرنے کی کوشش ہے ۔

اپرچترال(کریم اللہ )گزشتہ روز تحصیل انتظامیہ مستوج ایٹ بونی نے مکی لشٹ میں میرے نام پر ڈگری شدہ میرے قبضے میں شامل زمین کے گرد خاردار تاروں کو اکھاڑ کر نہ صرف میرے ملکیتی زمین پر قابض ہونے کی کوشش کی ہے بلکہ انہوں نے عدالتی فیصلے اور سابق اے سی مستوج حمید اللہ خٹک کی جانب سے ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی بھی دھجیاں اڑا دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار  بونی کے رہائشی شیر غازی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز تحصیل انتظامیہ نے بونی ٹیک لشٹ کےعوام کے نام ڈگری شدہ مکی لشٹ میں میرے ملکیتی زمین کے گرد ڈالے گئے لوہے کے تاروں کو نکال کر دعوی کیا کہ انہوں نے مکی لشٹ میں تجاوزات کو ختم کیا  ہے حالانکہ وہ زمین میری اپنی ملکیتی زمین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین کا کیس ہمارے اور سرکار کے درمیان 2006ء سے 2012 تک چلی اورآخری فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے 29 ستمبر 2012ء کو ہمارے حق میں ہوا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکار نے اس کیس میں ہمارے نام ڈگری شدہ زمین کے خلاف درخواست دی تھی جو کہ ہمارے حق میں ہوااس کے بعد سرکار نے مزید ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا یوں عدالت نےاس زمین کو ہمارے نام کردیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گہلی اسٹیڈیم کی تعمیر کے وقت میرا ذاتی 5 چکورم زمین اسٹیڈیم میں استعمال ہوا تھا جو کہ زیر کاشت زمین تھا۔ اس کے عوص اس وقت کے اسے سی مستوج حمید اللہ خٹک نے مکی لشٹ میں غیر آباد مگر بونی ٹیک لشٹ کی زمین پر مجھے چھ چکورم زمین دے دیا او ریہ تحریری فیصلہ اے سی مستوج حمید اللہ خٹک نے میرے ساتھ کیا جس کا گواہ سابق ممبر تحصیل کونسل سردار حکیم، تاج الدین لال اور موجودہ صدر بونی بازار محمد شفیع ہے،جن کے سامنے ان کے دستخط سے وہ زمین مجھے دی گئی اوراس کو قابل کاشت بنانے کے لئے اس وقت کے تحصیل انتظامیہ نے سرکاری بولڈوزر بھی مجھے فراہم کیا جس  کے سارے اخراجات بھی سرکارنے خود برداشت کئے اور اسی بلڈوزر کے ذریعے میں نے آٹھ گھنٹے میں اس زمین کو ہموار کرکے اس کے گرد بھاڑ لگادیا ۔ اب موجودہ تحصیل انتظامیہ نے کورٹ کے فیصلے اوراپنے ہی سابق اے سی کے فیصلے کو پاؤں تلے روند کر میری ذاتی زمین کے گرد باڑ ہٹانے کی کوشش کی جو کہ توہین عدالت اور میرے حق کو غضب کرنے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ آئیندہ اگرانتظامیہ نے میری ذاتی زمین میں بے جا مداخلت کی کوشش کی توان کے خلاف میں عدالتی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہوں ۔ جب اس سلسلے میں تحصیل انتظامیہ سے ان کا موقف جاننا چاہا توانہوں نے موقف اختیار کیا کہ شیر غازی نے سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ جما لیا ہے ان کے پاس حمید اللہ خٹک سے منسوب معاہدہ نامہ بھی جعلی ہے کیونکہ اس معاہدہ نامے میں سابق اے سی مستوج حمید اللہ خٹک کا دستخط ہی نہیں۔ انہوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ گہلی اسٹیڈیم میں استعمال شدہ ان کے زمین کی عوض انہیں تین چکورم زمین دی گئی ہے جبکہ انہوں نے چھ چکورم زمین پر قبضہ کیا ہے ۔انتظامیہ کا یہ بھی موقف تھا کہ اب بھی شیر غازی کے پاس ان کو دئیے گئے زمین سے زائد زمین موجود ہے جسے ان سے واپس لیا جائے گا۔