59

ڈی سی آفس اپر چترال میں مختلف عہدوں پر تقریری ٹیسٹ میں ایس ٹی ایس کمپنی کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت اور تردید

اسلام آباد( آوازچترال نیوز) سٹینڈرڈ ٹیسٹنگ سروس (ایس ٹی ایس) کے پبلک ریلیشن آفس سے جاری ایک پریس ریلیز میں ڈی سی آفس اپر چترال میں مختلف عہدوں پر تقریری ٹیسٹ میں ایس ٹی ایس کمپنی کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت اور تردیدکرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کی گئی ہے کہ ڈی سی آفس اپر چترال میں کمپیوٹر آپریٹر،جونیئر کلرک اور محرر کی آسامیوں کے لئے ایس ٹی ایس کو کنٹریکٹ دیا گیا جو کہ کنٹریکٹ کے مطابق ایس ٹی ایس نے ہائرنگ ٹیسٹ3نومبر کو بخوبی سرانجام دیا۔درین اثناء جب یہ کنٹریکٹ ایس ٹی ایس کو ملا مختلف Competitorکمپنیز/مخالفین کی طرف سے ایس ٹی ایس کو سوشل میڈیا پر دھمکی امیز میسج موصول ہوئے کہ ہم آپ کو چترال میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔جیسا کہ ہم نے ماضی میں دوسری ٹیسٹنگ کمپنی کو چلنے نہیں دیا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ایس ٹی ایس ٹیسٹنگ کمپنی اس خطرے سے واقف تھی کہ ٹیسٹ کے دوران بد انتظامی ہوسکتی ہے۔اس کو خاطر میں لاتے ہوئے ایس ٹی ایس نے تمام انتظامات مکمل کیے ہوئے تھے جب 3نومبر کو گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بونی میں ٹیسٹ کا انعقاد ہوا تو Questionپیپربکس ڈی سی آفس انتظامیہ،امیدواروں اور دیگر عملے کے سامنے سیل کو کھولا گیا۔ٹیسٹ کے دوران مخالفین کے کچھ عناصر امیدوار بن کر ٹیسٹ میں موجود تھے جنہوں نے ٹیسٹ کے دوران بدمزگی پھلانے کی کوشش کی اور تاثر پھیلایا کہ تمام اسامیوں کے ٹیسٹ پیپرایک ہی ہے جس پر ایس ٹی ایس انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہال میں موجود تمام امیدواروں کو مطمئن کیا کہ ان کے پاس جو بھی سوال نامہ ہے وہ سب کا مختلف ہے اور امیدوار مطمئن ہونے پر دوبارہ ٹیسٹ شروع کیا گیا۔اس سارے عمل کو ڈی سی آفس کی انتظامیہ بھی نگرانی کرتی رہی۔جب ٹیسٹ بخیر وخوبی اپنے انجام کو پہنچا اور مخالفین کو ٹیسٹ خراب کرنے کاکوئی بھی موقع نہ مل سکا تو پھر مخالفین نے ایس ٹی ایس کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا اور وزیراعظم سٹیزن کمپلین سیل پر پروپیگنڈا شروع کردیا کہ تمام پوسٹوں کے Questionپیپر ایک تھے جس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں ایس ٹی ایس کو بدنام کرکے اور کنٹریکٹ کنسل کرواکر اپنے من پسند ٹیسٹنگ کمپنی کو دوبارہ کنٹریکٹ دلوانا تھا۔جس کا حوالہ سوشل میڈیا پر مختلف کمنٹس اور پوسٹ میں ہورہا ہے۔ایس ٹی ایس اپنے خلاف ہونے والے اس تمام پروپیگنڈے کو رد کرتی ہے اور تمام پوسٹوں کی Question