58

اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ حکومت 9 نومبر تک قائم رہے گی.سربراہ جماعت اسلامی سراج الحق

لاہور (آوازچترال رپورٹ) سربراہ جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ حکومت 9 نومبر تک قائم رہے گی، حکومت اب خود لانے والوں پربوجھ بن گئی، ہمیں موقع دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق کے ایک عجیب و غریب بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کرتارپور راہداری منصوبے کا افتتاح 9 نومبر کو کیا جائے گا اور اس حوالے سے امير جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ 9 تاريخ تک حکومت رہے گی يا نہيں ابھی پتا نہيں ۔ملک میں معاشی بحران ہے، حکومت اب خود لانے والوں پربوجھ بن گئی، ہر دن اور ہر رات ايسے واقعات ہوتے ہيں جن کا يقين نہيں ہوتا ۔ سینیٹر سراج الحق کہتے ہیں کہ پہل کرنا، لچک دکھانا اور مطالبات ماننا حکومت کی ذمہ داری ہے، آج حکومت خود اپنے شہر میں محصور ہو گئی ہے۔ سراج الحق کہتے ہیں کہ ہ آخر کچھ تو ہے جس کی اسيبلشمنٹ کو ہر دن وضاحت کرنا پڑ رہی ہے، اسٹيبلشمنٹ بيانات نہيں عمل سےغيرجانبداری ثابت کرے۔ سراج الحق نے خود کو متبادل آپشن کے طور پر پیش کیا ہے اور کہتے ہیں کہ مہنگائی، بيروزگاری کيخلاف اور کشمیر کيلئے احتجاج کرينگے۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے متعلق امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ دھرنے کی صورت میں بہت بڑا مجمع موجود ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور مشرف حکومت کا ہی تسلسل ہے۔ حکومت مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے گھبرائی ہوئی ہے۔حکومت ملک کے حالات بہتر کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے یہ نالائقوں کا ٹولہ ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق خود بھی تحریک انصاف کے ووٹوں کے باعث سینیٹر بنے تھے۔ اب سراج الحق حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن اسی حکومت کے ووٹوں سے حاصل ہونے والی سینیٹر شپ اس استعفیٰ نہیں دیتے۔