154

آرمی چیف کے سامنے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تصدیق

   اسلام آباد(آوازچترال نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے تصدیق کی ہے کہ آرمی چیف کی موجودگی میں ہونے والے چند اجلاسوں کے دوران ملک کے سرکردہ کاروباری افراد اور کاشتکاروں نے حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے بعد آرمی چیف اور دیگر حلقوں کی طرف سے حالات بہتر بنانے کے لیے دی جانے والی تجاویز پر کام جاری ہے۔     ایک خصوصی انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’(آرمی چیف کی تجاویز پر) کام ہو رہا ہے، بالکل ہو رہا ہے۔ یہ مسلسل عمل ہے۔‘  دستاویزات سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق حال ہی میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور ملک کے سرکردہ کاروباری افراد کے مابین ہونے والی اہم ملاقات جس کا باقاعدہ اعلان آئی ایس پی آر نے کیا تھا سے قبل بھی آرمی چیف کی کاوربار اور زراعت سے منسلک نمایاں افراد سے ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں ملکی معیشت کو درست کرنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ ہوا تھا۔  ذرائع کے مطابق ایسی ہی ایک ملاقات 17 ستمبر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) میں ہوئی، جس میں آرمی چیف کی موجودگی میں کاشتکاروں اور زرعی مصنوعات سے منسلک کاروباری افراد نے وزیر تجارت رزاق داؤد اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے سامنے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں جب رزاق داؤد سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ان کی تنقید ہے، ظاہر ہے تنقید ہے کہ ہماری زراعت کی پیداوار جتنا بڑھنا چاہیے وہ نہیں ہوا۔ اور کوشش تو کر رہے ہیں، اور انشااللہ اس کے اوپر توجہ دیں گے تو بالکل ٹھیک ہو گا۔‘  ذرائع کے مطابق 17 ستمبر کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ، رزاق داؤد اور حفیظ شیخ کے علاوہ وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اور تحقیق صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور جنوبی پنجاب کے ایک بڑے زمیندار سید فخرامام، میجر جنرل عامر ریاض، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے بریگیٖڈیئر مسعود، کراچی سے تعلق رکھنے والے کچھ سرکردہ کاروباری افراد، شوگرملز، لائیوسٹاک، آٹو موبائیلز سیکٹر اور کچھ دیگر شعبوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔     اس اجلاس کے دوران کاروباری افراد بالخصوص زراعت سے منسلک تاجروں اور کاشتکاروں کی شدید تنقید کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکا کو یقین دہانی کروائی تھی کہ متعلقہ شعبوں کی تجاویز پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔ اس اجلاس کے ایک شریک کار کے مطابق ماہرین نے رزاق داؤد کی توجہ ’غیر موزوں‘ تجارتی پالیسی کی جانب دلائی اور انہیں نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جس کے بعد وہ پریشان ہو گئے۔ ان معلومات کی تصدیق کے لیے ’اردو نیوز‘ نے اجلاس میں موجود پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں ان امور کےعلاوہ بھی دیگرکئی معاملات پر بحث کی گئی تھی۔ خالد محمود کھوکھر نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وفاقی وزرا کے علاوہ شوگر پالیسی پر بھی تنقید کی گئی اور اس بات پر کھل کر اظہار خیال کیا گیا کہ حکومت کی شوگر انڈسٹری کو دی گئی مراعات کے باعث ملک میں کپاس اور اس سے منسلک صنعتیں تباہی کا شکار ہیں۔ اجلاس میں موجود صف اول کے ایک اور کاشتکار مختار منہیس نے بھی تصدیق کی کہ زرعی مصنوعات کی برآمدات اور کپاس، چاول اور چینی کی پیداوار کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔ رزاق داؤد نے اپنے اوپر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اٹھارویں ترمیم کے تحت زراعت صوبائی محکمہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزارت تجارت اور صنعت، جن کی مشرف دور میں کچھ ذمہ داری تھی کچھ حد تک وہ بالکل ختم ہو گیا ہے، زراعت اب صوبائی زمہ داری ہے۔‘   پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی تجاویز کے حصول کے لیے پہلا سیمینار رواں سال 27 جون کو منعقد ہوا تھا جس میں پاکستانی معیشت میں شامل مختلف شعبوں کے سرکردہ افراد سے تجاویز طلب کی گئی تھیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ تاہم اس  کے بعد 11 جولائی، 23 جولائی، 8 اگست اور 27 اگست 2019 کو مختلف اجلاسوں میں زراعت اور صنعت کے علاوہ ان سے منسلک حلقوں کے مسائل پر بات چیت کی گئی۔‘‘ ان اجلاسوں کے بعد 17 سے 19 ستمبر تک ایک اور’سیمینار‘ منعقد کیا گیا جس میں پہلے ہونے والے تمام اجلاسوں میں آنے والی تجاویز پر ایک پریزینٹیشن دی گئی۔ اس پریزینٹیشن کے مطابق دی گئی تجاویز میں درآمدی اور برآمدی پالیسی بہتر بنانے کے علاوہ زراعت کوجدید سائنسی اور مشینی خطوط پر استوار کرنے اور بہتر مارکیٹنگ کی حکمت عملی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ بیجوں کی بہتر کوالٹی فراہم کرنے اور مختلف شعبوں کو درکار مراعات مہیا کرنے کی تجاویز دی گئی تھیں۔ ان تجاویز اور زراعت کی پیداوار اور تجارت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے رزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ’ہر فصل مختلف ہے، پانی کی کمی ہے، گنے میں تھوڑے مسئلے ہیں، کپاس میں زیادہ مسئلے ہیں۔‘ ’کپاس میں دو چیزیں ہیں، کپاس کا جو ہمارا بیج ہے، اس کی کوالٹی کمزور ہو گئی ہے۔ تو ہمیں باہر سے ٹیکنالوجی لینا پڑے گا، یا آپ مغربی دنیا سے لیں یا چائنہ سے لیں، اور پیسٹی سائیڈز، یہ دو ایریاز ہیں ان پر توجہ دینا ہے۔‘

Facebook Comments