119

عمران خان کے قریبی لوگ الماری میں لٹکی اُن کی شیروانی پہننے کے خواہشمند

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) معروف اینکر و کالم نگار ماریہ میمن کا اپنے کالم میں کہنا ہے کہ جوں جوں دھرنا طویل ہونے کے اشارے ملے ہیں۔توں توں یہ خیال تقویت پکڑتا گیا کہ مولانا کے ہاتھ میں جو کارڈز ہیں وہ بہت بھاری ہیں جو انہوں نے ابھی تک کسی کو مکمل طور پر شو نہیں کیے۔کچھ لوگ اس کو بلف بھی تصور کرتے رہے۔ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ ایک جوا ہے تب بھی مولانا اتنے کچے کھلاڑی نہیں ہیں کہ کسی "سکیپ پلان” کے بغیر اتنا بڑا داؤ کھیلیں۔کچھ لوگوں نے مائنس ون تھیوریز کی بات چلانی شروع کی تو کچھ کا کہنا تھا کہ مولانا کا ہدف تبدیل ہو گا اور مائنس ٹو تک بھی بات جا سکتی ہے۔مولانا صاحب کے قریبی حلقوں سے بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ معاملہ صرف سیاسی نہیں ہے،وزیراعظم پاکستان اپنی تقاریر میں جس ریاست کے تصور کو اجاگر کررہے ہیں اس پر مولانا صاحب اور ان کی جماعت کو خدشات ہیں۔ مولانا کے قریبی حلقے اس بات سے بھی شاکی ہیں کہ وزیراعظم کے ارد گرد کچھ مخصوص مشیران کا اثرورسوخ بین الاقوامی معاملات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ماریہ میمن مزید لکھتی ہیں کہ یہ معاملہ مولانا کی سیاسی ضروریات کا نہیں ہے۔مولانا کو سیاسی طور پر کافی کچھ آفر کیا جا رہا ہے جس میں سینیٹ کی چار سیٹیں بھی شامل ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔وزیراعظم ہاؤس میں جو سکون اورٹھہراؤ ہے اس سے واضح ہے کہ حکومت یہ سوچ کر مطمئن ہے کہ معاملات طے پا جائیں گے۔اگر وزیراعظم اپنے غیر منتخب مشیران کی جگہ سیاسی مزاج اور سوجھ بوجھ والے کارکنان پر انحصار کریں گے تو شاہد بہت سے معاملات اتنا الجھنے کی نوبت نہ آئے۔خان صاحب یے ارد گرد کچھ ایسے عناصر ہیں جو بظاہر مذاکرات کے ذریعے سے کشیدگی ختم کروانے کی طرف مائل دکھائی دیتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں امید رکھتے ہیں کہ وہ شیروان جو کافی عرصے سے ان کی الماری میں لٹکی ہے وہ پہننے کا موقع انہیں بھی ملے۔خان صاحب کو دیکھنا ہو گا کہ ان کی صفوں میں موجود وہ کون شخص ہے جو پی ٹی آئی کا چوہدری نثار ثابت ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments