104

پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے،پاکستان میں آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پارلیمنٹ سے مشترکہ استعفوں کی بھی تجویز ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں مشترکہ استعفیٰ دے دیتی ہیں تو آئینی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے، مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والی اپوزیشن جماعتوں کی کل 155 سیٹیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو کم از کم 137 سیٹیں حکومت بنانے کے لیے درکار ہوتی ہیں، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی 116 جنرل سیٹیں ہیں، 28 خواتین کی اور 5 سیٹیں اقلیت کی ہیں اس طرح تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 149 سیٹیں ہیں، اگر اپوزیشن استعفے دے دیتی ہے تو ان سیٹوں پر دوبارہ الیکشن کروانا پڑیں گے، ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ ہم مشترکہ استعفوں کی تجویز پر متفق ہیں اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ ن لیگ کے رہنما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن مشترکہ استعفے دیتی ہے تو تحریک انصاف کی حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے وہ دھڑام سے گر جائے گی۔ دوسری جانب ر ہبر کمیٹی نے کہاہے کہ اگر حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفیٰ کی بات نہیں کرنی تو رابطے کرنے کی ضرورت ہی نہیں،حکومت ماورائے آئین کوئی اقدام اٹھاتی ہے تو پوری اپوزیشن بھرپور مزاحمت کریگی،وزیراعظم کا استعفیٰ، فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات، آئین کی مکمل پاسداری کو آگے بڑھایا جائیگا، مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے استعفے، لاک ڈاؤن، شٹر ڈاؤن، ہائی ویز بلاک کرنا، ضلعی لاک ڈاؤن یہ سب آپشن زیر غور ہیں،تمام جماعتیں اپنی قیادت سے تجاویز پرمتفقہ طریقہ کار طے کریں گی۔ ہفتہ کو رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ آزادی مارچ میں جس طرح پارٹی قائدین اور رہبر کمیٹی نے کام کیا اس پر سب کا مشکور ہوں،تمام جماعتیں متفق ہیں کہ آزادی مارچ کے مقاصد کو آگے بڑھایا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے چار مطالبات وہی ہیں جو پہلے سے تھے،تمام تجویز پر کمیٹی اراکین اپنی قیادت سے رابطے کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت رابطے کرنا چاہتی ہے، ہمیں رابطوں پر اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور پرویز خٹک کا لب و لہجہ مناسب نہیں ہے، پہلے لب و لہجہ درست کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ رہبر کمیٹی تحلیل نہیں ہوگی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ تمام غیر جمہوری قوتوں کو خبردار کرتے ہیں،غیرآئینی اقدام ہوا تو ملکی سلامتی کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا۔ اکرم درانی نے کہاکہ وزیراعظم کے استعفیٰ کا آپشن زیر غور ہے، پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مارچ تک کسی نے کوئی پتھر پھینکا نہ پتا توڑا، ٓزادی مارچ کے راستے روکے گئے، قافلے کے زخمیوں کو ہسپتال میں ٹریٹمنٹ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کی آزادی بھی تو کورٹس کا فیصلہ ہے، اس پر حکومت کتنا عملدرآمد کر رہی ہے؟ اتوار کو شام تک انتظار کریں ہم کیا فیصلہ کرتے ہیں آزادی مارچ کا آگے کیا لائحہ عمل ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاکہ حکومت ملک کی معیشت کو تباہ کر رہی ہے، ہم پاکستانی کی جمہوری قوتیں اکٹھی بیٹھی ہیں، اس حکومت نے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، کرتارپور منصوبہ میرے ضلع میں ہے، وزیراعظم نے سکھ زائرین کیلئے پاسپورٹ کی شرط ختم کردی ہے جس پر ہمیں تشویش ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ وزیراعظم کا یہ فیصلہ ملکی سلامتی کے لئے درست نہیں ہے، عمران خان کی حکومت بہت بڑے بڑے بلنڈر کر رہی ہے۔میاں افتخار حسین نے کہاکہ افغانستان کی طرف راستے بھی کھولے جائیں، پنجاب کے انفارمیشن منسٹر نے ہماری حب الوطنی پر طنز کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اکابرین نے تاریخی قربانیاں دی ہیں، ایک سیٹ کا بندہ وزیراعظم بن کر غلط زبان استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ایک دھکے کی مار ہیں، زبان سنبھال کر بات کریں۔ اکرم درانی نے کہاکہ نواز شریف کی حکومت اس حکومت سے بہت مختلف تھی، یہ حکومت ایک سال میں بری طرح سے ناکام ہوگئی ہے۔ نیر بخاری نے کہاکہ دھرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے، مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے تجاویز اپنی اپنی پارٹی کے پاس لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں اور نئے انتخابات فوج کی نگرانی میں نہیں ہونے چاہئیں،رہبر کمیٹی برقرار رہے گی، اکرم درانی۔ انہوں نے کہاکہ تمام جماعتیں اپنے اپنے اجلاس میں رہبر کمیٹی کے فیصلوں پر غور کرینگی جس کے بعد فیصلوں کا اعلان ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے معاہدے پر ہم برقرار ہیں لیکن حکومت بھاگ رہی ہے۔

Facebook Comments