101

سائیکل پردفتر جانے اور پروٹوکول کلچر کے خاتمے کے اعلانات بھی یوٹرن کی نظر ہوگئے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان

پشاور (آوازچترال نیوز)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت 14 ماہ کے قلیل ترین عرصے میں ناکام و نااہل ثابت ہوچکی ہے۔ حکومت کے اقدامات سے عوام تنگ، ڈاکٹراور تاجراحتجاج پر ہیں۔حکومت نے کم ترین وقت میں ناکام ترین حکومت ہونے کا تصور پختہ کردیا ہے۔ حکومت کے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا دور دور تک پتہ نہیں۔سائیکل پردفتر جانے اور پروٹوکول کلچر کے خاتمے کے اعلانات بھی یوٹرن کی نظر ہوگئے۔ حکمرانوں نے کشمیر کو فروخت کردیا ہے۔ لداخ اور کشمیر علیحدہ ہوگئے اور لیفٹننٹ گورنرز نے حلف بھی لے لئے۔کشمیر ہولوکاسٹ اور نسل کشی کہ طرف جارہا ہے جبکہ حکمران جہاد کی بات کرنے کو کشمیر اور پاکستان سے دشمنی کہہ رہے ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں نے خاموش رہ کر کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ جماعت اسلامی احتجاجی، انتخابی اور سیاسی جدوجہد اپنے اسٹیج سے کرے گی۔حکومت بلدیاتی انتخابات سے بھاگنا چاہتی ہے لیکن ہم بھاگنے نہیں دیں گے۔ حکومت فی الفور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرے۔جماعت اسلامی اور جے آئی یوتھ کے ضلع، زون، نائبر ہُڈ کی سطح پر ربیع الاول کے مہینے میں سیرت کانفرنسوں کا انعقاد کریں۔ سیرت کانفرنسوں میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی میں جماعت اسلامی ضلع پشاور کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر عتیق الرحمن، جنرل سیکرٹری کفایت احمد کے علاوہ نائب امراء بھی موجود تھے۔ اجتماع ارکان میں نئے امراء زون نے اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھایا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، جمہوریت کے استحکام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں بلدیاتی انتخابات کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو اس بنیادی آئینی اور جمہوری حق سے محروم کرنے کی حکومت سازش کو ناکام بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر حکمران بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کشمیری عوام 90دن سے بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں لیکن حکمران صرف ٹویٹس اور کالی پٹیوں پر اکتفا کررہے ہیں۔ آزادی مارچ کے اختتام پر کشمیر کے مسئلے پر حکومت سے دو ٹوک بات کرنے کے لئے بھر پور احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

Facebook Comments