112

عبداللہ طارق سہیل کا کالم: آخری تجربہ

سیاسی حلقوں میں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر نواز شریف جلاوطن ہونے پر تیار نہ ہوئے تو کیا ہوگا۔ جواب آسان ہے کہ ایک نیا راستہ نکل آیا ہے۔ یہ کہ نواز شریف کا شناختی کارڈ کالعدم کرکے ان کی شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔ انہیں سکینڈے نیویا یا سکاٹ لینڈ کا شہری قرار دینے کے بعد ڈیپورٹ کر دیا جائے گا یوں وہ مسئلہ حل ہوجائے گا جو دو سال سے درد سر بلکہ درد سر سے بڑھ کر درد کمر بنا ہوا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سال بھر سے یہی دباؤ تھا، باہر چلے جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ نہ مانے اور نہ ماننے پر اڑے رہے تو ذہنِ رسا نے یہ نسخہ استعمال کیا۔ اچانک سے ایک دن خبر آئی کہ نیب نے انہیں تفتیش کے لیے اپنی حراست میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفتیش کوٹ لکھپت جیل میں بھی ہوسکتی تھی مگر یہ تحویل کیوں؟ بات پراسرار تھی، کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ 13 روز کی تحویل میں نوازشریف موت کے دروازے پر جا پہنچے۔ اب تو جلا وطنی پر تیار ہوجائیں گے بلکہ خود استدعا کریں گے۔    لیکن- اے بسا آرزو کہ – فی الحال – خاک شدہ۔ نواز شریف بدستور ڈٹے رہے۔ شہباز شریف نے دو روز پہلے درخواست کی کہ بھائی جان، ضد نہ کریں، باہر چلے جائیں اور علاج کروائیں۔ اسی میں سب کا بھلا ہے۔ نواز شریف نے جواب دیا، زندگی کے بہت تھوڑے دن باقی رہ گئے۔ اپنی عاقبت خراب نہیں کروں گا۔ یہیں علاج کراؤں گا، بچوں گا تو یہیں، مروں گا تو یہیں۔   چنانچہ اور کوئی راستہ نہ بچا۔ سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کی شہریت منسوخ کرنا ایک تجرباتی عمل ہے۔ حافظ صاحب پاکستان میں پیدا ہوئے، ان کے والد بھی یہیں بلوچستان کے شہر چمن میں لیکن حافظ صاحب کی شہریت ختم، شناختی کارڈ منسوخ۔ یوں معلوم ہوا کہ نادرا بھی ایک پیج پر ہے۔ تجربے نے دھوم مچا دی۔ لیکن یہ بھی کیا دھوم ہے، دھوم تو تب مچے گی جب نوازشریف ’ڈیپورٹ‘ ہوں گے۔ آصف زرداری کو شیخ قرار دیا جاسکتا ہے اور مولانا فضل الرحمن کو سنکیانگ کا باشندہ جبکہ بلاول تو جونا گڑھ بھجوائے جا سکتے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ اگر کبھی سراج الحق کی شہریت منسوخ کرنے کا مرحلہ آیا تو انہیں کس ملک کا باشندہ قرار دیا جائے گا؟ شاید پتہ چلے کہ وہ آذربائیجان کے شہر باکو میں پیدا ہوئے، سوویت یونین ٹوٹا تو مہاجر ہو کر پاکستان آ گئے۔ نواز شریف کی ضد پر کچھ ہفتے پہلے وزیرداخلہ، اس ملک کے ’اصلی‘ باشندے، اعجاز شاہ نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’حکم عدولی‘ پر مارے گئے، بات مان لیتے تو چوتھی بار وزیراعظم بن جاتے۔ پھر شیخ جی کلاں بازار والے کا بیان آیا کہ نوازشریف کو ٹکریں مارنے کی عادت ہے۔ بات ان کی 16 آنے پاؤ رتی درست ہے۔ نواز شریف سے پہلے کسی نے ایسی ٹکریں نہیں ماریں۔ نواز شریف نے ایک نہیں، تین تین بار ٹکریں ماریں، خود نواز کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا لیکن جس کو ٹکریں ماریں، حالت اس کی بھی پتلی کر دی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ پہلی بار خود کو ’پھنسا‘ ہوا محسوس کرتے ہیں اور جو بھی تدبیر نکلنے کی کرتے ہیں، الٹی پڑ جاتی ہے۔  کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں اور دیکھنے والے تو یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کا تجربہ ناکام ترین تجربے میں بدل گیا۔  تبدیلی کا میزائل ٹھس ہوکر ملکی معیشت میں جا گھسا اور اسے ملبے کے ناقابل شناخت ڈھیر میں بدل دیا۔  خطرات کے پنڈورا باکس سے سات بلائیں جھانک رہی ہیں اور تبدیلی خان این آر او نہیں دوں گا کے نعرے سے استعفیٰ نہیں دوں گا کے نعرے پر آگئے ہیں۔

Facebook Comments