109

جلوس گوجر خان سے روانہ، پڑاؤ آج رات اسلام آباد میں ہو گا

اسلام آباد(آوازچترال نیوز)  اسلام آباد روانگی سے قبل گوجر خان میں خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں ہمارے مارچ سے متعلق افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، یہ آزادی مارچ ہے، اسلام آباد میں بھی مارچ رہے گا، اسلام آباد میں مارچ بھی ہو گا دھرنا بھی ہو گا، جلسہ بھی ہو گا۔‘ ہم اپنا جلسہ کریں گے، اسفندیار ولی  اس مارچ میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا سے اے این پی کا قافلہ پارٹی صدر اسفندیار ولی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے جبکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما اور کارکن بھی اس مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ ’مارچ کے حوالے سے اپوزیشن پارٹیوں میں کوئی اختلاف نہیں۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں آج جمعرات کو ہی جلسہ کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور اے این پی اپنا جلسہ آج ہی کرے گی۔‘   وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی بریفنگ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے والوں کے لیے بہترین سہولتوں کا انتظام کر رکھا ہے، وہ ایسا محسوس کریں گے جیسے پی سی میں ٹھہرے ہوئے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے کنٹینر کے لیے الگ روٹ بنایا گیا ہے۔  ’مولانا مارچ ضرور کریں لیکن عدالتی فیصلوں کا بھی احترام کریں، اس حوالے سے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے موجود ہیں۔‘   اعجاز شاہ کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کی طرف پہلے بھی لانگ مارچ ہوئے، دھرنے دیے گئے، جنہیں روکنے کی کوششیں ہوئیں تاہم یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ حکومت آنے والوں کی سہولت کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ’پہلے مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ ایک تھا، پھر دو ہوئے، پھر چار اور اب چھ ہو گئے ہیں، ماضی میں بھی اسلام آباد پر یلغاریں ہوتی رہی ہیں تاہم موجودہ دھرنا اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دو ماہ قبل جب اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے احتجاج کا فیصلہ کیا اور تاریخ کا اعلان کیا تو ان کے اتحادیوں کو بھی پتا نہیں تھا کہ اصل میں وہ کرنے کیا جا رہے ہیں۔ اس وقت پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنی اور دوسری جانب سے رہبر کمیٹی بنائی گئی، مذاکرات بھی ہوتے رہے، تاہم جب انہوں نے اسلام آباد آنے کا اعلان کیا تو اس کے بعد دونوں جانب سے ہونے والی بیان بازی نے صورت حال کو کشیدہ کیا۔‘ ’بعد ازاں وزیراعظم کے اس فیصلے نے سب کے منہ بند کر دیے کہ کسی کو نہ روکا جائے، مارچ کرنے والوں کو آنے دیا جائے بلکہ سہولتیں بھی فراہم کی جائیں۔‘   اعجاز شاہ نے کہا کہ ’شروع میں اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ ڈی چوک تک جائیں گے تاہم انہیں سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا، دوسرا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی آ چکا ہے جس میں احتجاج کے لیے کوئی مقام مخصوص کرنے کا کہا گیا۔ اس کے بعد انہیں پشاور موڑ کا علاقہ دکھایا گیا جہاں انتظامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ہوٹل اور رہائشی انتظامات بھی شامل ہیں۔‘ اس موقع پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم سیاسی میدان کے کھلاڑی ہیں، محاذ آرائی نہیں چاہتے، حکومت نے جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے احتجاج کی اجازت دی ہے، سکیورٹی کی ذمہ داری بشمول سات ہزار سفارتی عملے کے حکومت کی ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان کے ساتھ رشتے کو کمزور نہ کریں اور ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پرہیز کریں جس سے بیرونی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہو۔ خیال رہے کہ کراچی سے لے کر سکھر، ملتان، لاہور اور گوجرانوالہ میں مولانا فضل الرحمان کی تقاریر کا لب لباب یہی ہے کہ وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، 25 جولائی 2018 کے جعلی انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔

Facebook Comments