170

وزیراعظم عمران خان نے رہبر کمیٹی کے مطالبات مسترد کر دیے، وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ مزید 3 مطالبات کیا تھے؟

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز)وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات مسترد کردئیے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیردفاع پرویز خٹک کررہے ہیں جبکہ کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزراء شفقت محمود، نورالحق قادری اور اسد عمر بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہوئی جہاں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چاروں مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کے حوالے کیے ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی سے وزیراعظم سے مشاورت کیلئے وقت مانگا۔ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے مطالبات میں وزیراعظم کا استعفیٰ، نئے انتخابات، آئین میں اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی بھی شامل ہیں۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کے 4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے اپنے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے آزادی مارچ کے مقام کے معاملے پر رہبر کمیٹی سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔قبل ازیں مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بات چیت بہت اچھے ماحول میں ہوئی، کچھ تجاویز اپوزیشن نے دیں اور کچھ حکومت نے دیں۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے اعلیٰ سطح پر مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات مسترد کردئیے۔

Facebook Comments