108

حکومتی مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم کا استعفیٰ ساتھ لے کرآئے، مولانا فضل الرحمان

لاہور( آوازچترال نیوز) جمعیت علماء اسلام (ف)مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم کا استعفیٰ ساتھ لے کرآئے،27اکتوبر کو کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے کراچی میں اجتماع کریں گے،31اکتوبر کو آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا، ہمیں عوام کیلئے اسلام آباد میں 2مہینے بھی قوم کا انتظار کرنا پڑا ہم کریں گے۔انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجلس شوریٰ نے نوازشریف کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔آزادی مارچ ہر حال میں ہوگا،تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا گیا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی پر کوئی ٹریبونل میں نہیں جائے گا، عدالت میں نہیں جائے گا، ایک یا دو حلقوں کی بات نہیں ہوگی۔ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کے سربراہ بھی پرویز خٹک تھے۔ آج تک نہ اس کی میٹنگ ہوئی اور نہ ہی اس کے ٹی اوآرز طے ہوئے۔اس وقت بھی پرویزخٹک ہی حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ٹیم کا کیا انجام ہوگا؟انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے عام آدمی نے امید قائم ہوئی ہے ،گلی کوچوں میں عام آدمی، چھابڑی والا اور تمام طبقات، ڈاکٹرز ، ٹیچرزاور وکلاء اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ایک طرف کہا جارہا ہے کہ آزادی مارچ کیلئے راستے بند نہیں کریں گے، دوسری طرف ہر ضلعے میں پٹرول پم بند کردیے گئے،لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو آگاہ کیا کہ لوگ آئیں گے ، ان کو مشقت میں مت ڈالو۔لوگ سائیکلوں، موٹرسائیکلوں ، اونٹوں،گھوڑوں، خچروں پرجائیں گے، پیدل جائیں گے۔ہمیں 2مہینے بھی قوم کا انتظار کرنا پڑا ہم کریں گے۔کارکنا ن سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمت نہیں ہارنی ، ہم نے ملکر قوم کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرکمیٹی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔

Facebook Comments