119

فوج حکومت کے پیچھے، استعفیٰ نہیں دوں گا…..وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اپوزیشن مائنس ون کے ایجنڈے پرکام کر رہی ہے لیکن میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ پاکستانی عوام نے ہمیں پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے‘ منتخب وزیراعظم ہوں‘ اپوزیشن کے مطالبے پر استعفیٰ نہیں دیں گے‘فوج میرے پیچھے کھڑی ہے‘ پاک فوج اس وقت منتخب حکومت کی ہرپالیسی کے ساتھ ہے‘ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہے‘ ہم مل کر ملک کومشکل صورتحال سے نکالیں گے ‘جنرل قمر جاوید باجوہ مجھ سے پوچھ کر تاجروں سے ملے ‘ حکومت اس طرح چھوڑ کر نہیں جائیں گے‘مولانا کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ‘تفصیلات نہیں بتا سکتا‘ ان کے دھرنے پر بھارت خوشیاں منا رہاہے ‘مولانا کی سمجھ نہیں آتی کبھی مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں‘ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ‘ان کا چارٹرآف ڈیمانڈ واضح نہیں ‘آزادی مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان اور دشمن ممالک کو فائدہ پہنچے گا‘ حکومتی مذاکراتی کمیٹی (آج)فضل الرحمان سے ملاقات کرے گی‘ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے ، این آر او، اگر ان کو این آراو اورگرفتار رہنماؤں کوباہر جانے کی اجازت دے دوں تو زندگی اور حکومت آسان ہوجائے مگرحکومت کسی قسم کااین آراونہیں دے گی‘ کرپٹ عناصر کےخلاف کاروائی جاری رہے گی‘ نوازشریف کے مستقبل کافیصلہ عدالتیں کریں گی، ان کی صحت کا معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں‘کشمیر کی صورتحال کشیدہ ہے ‘بھارت پلوامہ جیساا یک اور ڈرامہ رچا سکتا ہے، آرمی چیف سے کہا ہے فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں ‘بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، روپے کی قدر مزید مستحکم ہوگی‘مہنگائی اور بیروز گاری سنجیدہ مسئلہ ہے ‘اس پر کام کررہے ہیں ۔ بدھ کو یہاں سینئر صحافیوں اور اینکرز سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ہمارے دھرنے اور فضل الرحمان کے مارچ میں بڑا فرق ہے‘میں چار حلقوں کے ثبوت لیکر پھرتا رہا، ہر دروازہ کھٹکھٹایا جس کے بعد احتجاج کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہاکہ مولانا کے آزادی مارچ کے پیچھے غیر ملکی قوتوں کے ہونے کے ثبوت تو نہیں لیکن افغانستان ‘کشمیر سمیت خطے کی صورتحال اور ٹائمنگ سے لگتاہے کہ ان کے پیچھے ضرور کوئی بیرونی طاقتیں ہیں ‘فضل الرحمان کے مارچ پر بھارت میں جشن منایا جارہا ہے‘اپوزیشن کے دھرنے سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔بھارت اب کشمیر میں بری طرح پھنس چکاہے، شروع میں ہمیں کشمیر کے معاملے پر عالمی سپورٹ نہیں ملی لیکن آج کشمیر کامسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوچکا ہے ‘ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہو ‘ہم ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں، کوشش ہے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہو،سعودی عرب اورایران کی لڑائی ہمارے لیے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پہلی دفعہ منتخب حکومت اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں‘ پاک فوج اس وقت منتخب حکومت کی ہرپالیسی کے ساتھ کھڑی ہے‘نئے بلدیاتی نظام کے تحت اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کریں گے۔نوازشریف کی طبیعت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ شہبازشریف کہتے ہیں نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، نوازشریف کی صحت کا معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں اور نہ ہی میں کوئی عدالت یا ڈاکٹر ہوں، نوازشریف کے بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اور اگر مریم نواز نے ملاقات کرنی ہے تو وہ فیصلہ بھی عدالت کرے گی، میں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کردی ہے کہ نوازشریف کو بہترین سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں فضل الرحمان کے دھرنے کو بھرپور کوریج دی جارہی ہے‘ مولانا اور دیگر جماعتوں کو صرف میں ہی برا لگتا ہوں‘مولانا کے جائز مطالبات ضرور سنے جائیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ کابینہ کی کارکردگی دیکھ رہے ہیں ، ضرورت پڑی تو تبدیل کریں گے ۔

Facebook Comments