170

24اکتوبرانسدادپولیوسے بچاؤ کاعالمی دن۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

ہر سال ماہ اکتوبر کی 24 تاریخ کوپاکستان سمیت دنیا بھر میں پولیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد پولیو جیسے خطرناک مرض کے حوالے سے عوام میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے اگر خدانخواستہ لاحق ہوجائے تو وہ متاثرہ بچے کے لیے جسمانی معذوری کی شکل میں ساری زندگی معذوربن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری ایک چھوٹی سی کوشش بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ محکمہ صحت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسداد پولیو کی کاوشوں میں بھرپور ساتھ دیں۔ پاکستان میں پولیو ویکسین حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جانے والی ویکسین ہے جو پولیو ورکرز گھر گھر جا کر 5 سال کی عمر تک کے بچوں کو پلاتے ہیں، تاہم اس کے باوجود پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کا سبب والدین کی کم علمی اورغفلت کانتیجہ ہے۔
زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات سے گذارش ہے کہ ملک کو اس موذی مرض سے پاک کرنے میں ہرممکن کوشش کریں۔تاکہ مستقبل میں کوئی بھی بچہ اس خطرناک مرض سے متاثر نہ ہوں۔بدقسمتی سے سال رواں کے دوران ملک بھر میں پولیو کے 73کیسز سامنے آئے جن میں 54 پولیو کیسز خیبر پختونخوا کے ہیں جہاں جنوبی ضلع بنوں پولیو سے سب سے زیادہ متاثر رہا۔صوبہ خیبرپختونخوامیں پولیو کے ان بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ ویکسین نیشن سے انکار،پولیو ویکسین کے بارے میں گمراہ کن پراپیگنڈا، کمیونٹی کی جانب سے ویکسین نیشن کی مزاحمت وغیرہ ہیں۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے سب سے پسماندہ اوردورافتادہ وادی چترال پولیوکے اس خطرناک مرض سے پاک ہونے کی وجہ محکمہ صحت چترال کے محنتی اہلکاروں اورحکومت کے شانہ بشانہ کام کرنے والے ادارہ آغاخان ہیلتھ سروس چترال پا کستان کی کوششوں کانتیجہ ہے۔
”ڈسٹرکٹ کواڈینٹرای پی آئی چترال ڈاکٹرفیاض رومی کاکہناہے کہ چترال میں کام کرنے والے تمام متعلقہ اسٹاف،ہمارے پاٹنرادارے کی تعاوں اور مسلسل کوششوں سے اللہ تعالیٰ کی فضل کرم سے ضلع چترال اس مہلک مرض کی تباہی سے پاک ہے،چترال کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات،اس کام کواپنا فرض اور قومی فریضہ سمجھ کرکررہے ہیں خاص کریہاں کے علماء کرام پولیوکے قطرے پلانے کی اہمیت کو بتانے اور عوام میں شعوروآگاہی بیدارکرنے کے میں بڑے کرداراداکرتے ہیں۔اگرعوام کاتعاون رہے گاتوچترال کوانشااللہ تعالیٰ اسی طرف پولیوفری رکھیں گے۔“
”آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے ریجنل پروگرام منیجرمعراج الدین کاکہناہے کہ چترال سمیت پاکستان کوپولیو فری بنانا ہمارا مشن ہے یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے قوم کے مستقبل کو پولیو جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رکھنا ہے۔ پولیو کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر جیتنے کیلئے پرعزم ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے صوبے میں یہ موذی مرض اب بھی موجود ہے۔انسداد پولیو کیلئے علماء کرام کا موثر کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ چترال کے علماء کرام نے ہمیشہ معاشرتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کیاہے اورآج وطن کی مٹی اپنے نونہالوں کو پولیوسے محفوظ رکھنے کیلئے ہرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔آغاخان ہیلتھ سروس چترال اس حوالے سے مختلف علاقوں میں سمینار،آگاہی ورک،مختلف ورکشاپس،اخباری بیانات اوردیگرپروگرامات کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص والدین میں شعور اور آگاہی اجاگر کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ چترال میں پولیو ویکسین نیش کرنے والے ورکرز کو سیکیورٹی دینے میں چترال پولیس بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔“
چترال کے بہادر صحت محافظ، جو تمام موسمی اور ماحولیاتی مشکلات کے باوجود تقربیاساڑھے14ہزارمربع کلومیٹرپرپھیلاہوا وادی چترال کے کونے کونے میں بسنے والے بچوں تک بڑی کامیابی سے نہ صرف رسائی حاصل کر رہے ہیں بلکہ ان کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ان صحت محافظ کارکنان کی ان تھک محنت اور کوششوں سے وادی چترال کو پولیو کے وائرس سے مکمل محفوظ بنا دیا ہے۔ آج ہم سب کو اس عزم کا اعادہ کرنا ہو گا کہ آنے والے وقت میں محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا اور پولیو ویکسین نیشن کے ہر مہم کو کامیاب بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی بچہ اس مرض سے متاثر نہ ہوں۔ پولیو سے بچاؤ اورمرض کے خاتمے کیلئے تمام طبقات کو مل کرپاکستان کوپولیو فری بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
گزشتہ چندسالوں کے دوران انسداد پولیو ٹیموں پر حملوں کے چند ناخوشگوار واقعات کے باوجود بھی یہ جذبے سے سرشار ان صحت محافظ کارکنان صوبے سے پولیو کے خاتمے کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔جس کوسلام پیش کرتے ہیں۔
نمائندہ آوازچترال

Facebook Comments