17

گالیاں اور مذاکرات کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے، مولانا فضل الرحمان

لاہور( آوازچترال نیوز) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ گالیاں اور مذاکرات کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے، حکومت ایک طرف مذاکرات کرنا چاہتی، دوسری طرف تضحیک کر رہی، اگرحکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے،استعفے کے بعد ہی مذاکرات کرسکتے ہیں۔ وہ آج یہاں لاہور میں صدر ن لیگ شہبازشریف سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں گے۔ ہم نے31 اکتوبر کواسلام آباد میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 31 اکتوبرکو پوری قوم کیساتھ شامل ہونے کے فیصلے پر شہبازشریف اور ان کی پوری پارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حزب اختلاف کے تمام قائدین ہمیں اپنی تائید سے نواز رہے ہیں۔ ہم تمام قائدین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی مشاورت سے آگے بڑھنا چاہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے اوردوسری طرف گالیاں اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تضحیک اورگالیاں، مذاکرات اور سنجیدگی یہ کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے تو پہلے استعفیٰ دے۔استعفے سے کم بات پرمذاکرات کرنا ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ فضل الرحمان نے دوٹوک کہا کہ استعفے کے بعد ہی اگلے اقدامات کیلئے مذاکرات کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ 31 اکتوبر کو آزادی مارچ کیلئے جلسہ کرنے کا اعلان کردیا، جلسے میں اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، پارٹی قائد نوازشریف کی ہدایت پر ن لیگ آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی،جلسے میں پاکستان زندہ باد کہیں گے اور کشمیریوں کے حقوق کی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی صورتحال بدترین ہوچکی ہے۔ معاشی صورتحال تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اقتدار ملا تو معیشت کو 6 مہینوں میں پاؤں پر کھڑا کردیں گے۔ شہباز نے کہا کہ ملک بھر میں کاروبار دکانیں بند ہیں، روزگار بند ہے، ہسپتالوں میں ادویات ختم ہوچکی، غریب سسک سسک کر مررہے ہیں۔آزادی مارچ کرنے جارہے ہیں، ہم قائد نوازشریف کی ہدایت پر31 اکتوبر کو بھرپور جلسہ کریں گے، اور اپنا اگلالائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔پاکستان زندہ باد کہیں گے، کشمیر میں بدترین ریاستی دہشتگردی ہو رہی ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کی بات کریں گے۔ جلسے میں اپنے مطالبات بھی پیش کریں گے۔ شہبازشریف نے کہا کہ یہ میری آواز نہیں ہے، یہ آواز پورے پاکستان کی ہے، یہ آوازحضرت مولانا کے ساتھ ہے کہ یہ حکومت جو سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم جو ایک سلیکٹڈ ہیں، ان کے سوا سال میں بدترین کارگزاری ہر میدان میں مایوسی ہے، تعلیم اور صحت کے میدان سمیت ہر میدان میں مایوسی ہے۔اس حکومت کو جلد گھر جانا چاہیے اور ملک میں جلد نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو تباہ کردیا، سرمایہ کاری ختم ہوگئی، مہنگائی عروج پر ہے۔ آج جو کچھ ہورہا ہے حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وعدہ ہے کہ حکومت ملی تو معیشت کو 6 مہینوں میں پاؤں پر کھڑا کردیں گے۔ اس سے قبل صدر ن لیگ شہبازشریف سے ان کی رہائشگاہ پر جے یوآئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی، جس میں سیاسی صورتحال، ملکی مسائل اور آزادی مارچ سے متعلق لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ملاقات میں جے یوآئی ف کی جانب سے مولانا عبدالغفورحیدری اور مولانا امجد جبکہ ن لیگ کے رہنماؤں میں خرم دستگیر، احسن اقبال، امیرمقام، حنیف عباسی، مریم اورنگزیب اور ملک پرویز شریک ہوئے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے متعلق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی فہرست تیار کرلی گئی ہے، وزیر دفاع پرویز خٹک نے فہرست منظوری کیلئے وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کمیٹی کے حتمی ناموں کی منظوری دیں گے۔ ان ناموں میں شاہ محمود قریشی، محمد میاں سومرو، اسد عمر سمیت دیگر نام تجویز کئے گئے ہیں۔