20

ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز ) : ممتاز علمائے دین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کرنے والوں میں مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم ، شیخ الحدیث مولانا حنیف جالندھری نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔ملاقات نہ کرنے والوں میں شیخ الاسلام مفتی زرولی خان ، علامہ ساجد میر بھی شامل ہیں۔ ملاقات نہ کرنے کی وجہ تاحال سمجھ نہیں آ سکی۔ خیال رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت علماء مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور مدارس ریفارمز پرغورکیا گیا۔ اجلاس میں اہم حکومتی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے علماء کرام سے آزادی مارچ رکوانے کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعظم نے علما کرام سے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے میں بھی کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم نے علما کرام کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دینی مدارس کے حوالے سے انقلابی ریفارمز کی جا رہی ہیں، دینی مدارس کے طلباء کو حکومتی سرپرستی فراہم کریں گے۔انہوں نے شرکا اجلاس سے سوال کیا کہ وہ کونسا مسلمان ہے جو ختم نبوت کا پہرے دار نہیں ؟ مشاورتی اجلاس میں شریک علامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے آزادی مارچ پر زیادہ بات نہیں کی، وزیراعظم نے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ملاقات مولانا کے آزادی مارچ سے متعلق نہیں، حکومتوں میں دھرنے اور احتجاج ہوتے رہتے ہیں، احتجاج معمول کی بات ہے، حکومت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں۔