65

خیبرپختونخوا پولیس ماڈل کے طور پر پہچانی جاتی ہے ٗ محمود خان

پشاور(آوازچترال رپورٹ)۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے کہا ہے کہ پولیس سروس ملک کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں امن و امان کو بہت اہمیت حاصل ہے اور اس امن و امان میں پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا پولیس میں تحریک انصاف کی گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں اصلاحات لائی گئی تھیں جن کی وجہ سے خیبرپختونخوا پولیس پورے ملک میں ماڈل پولیس کے طور پر پہچانے جانے لگی۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا پولیس میں اصلاحات کے بعد سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ کیا گیا ہے۔جس کی بدولت پولیس میں انصاف اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پولیس کو مکمل بااختیار بنایا گیا ہے۔

 خیبرپختونخوا ماڈل پولیس کے نظریے کو پورے ملک میں سراہا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کو پولیس میں ریفارمز کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنی آراء دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پولیس گروپ کے زیر تربیت نئے افسران کے ایک وفد سے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ملاقات کے دوران کیاہے۔وفد کی قیادت ڈپٹی کمانڈ نٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس کر رہے تھے۔وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ پولیس میں نئے شامل ہونے والے نوجوانوں سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ پولیس لوگوں کی خدمت کرے اور جذبہ خدمت سے سرشار ہو کر اپنے فرائض نبھائے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پولیس میں خاطر خواہ اصلاحات لائی ہیں تاکہ صوبے کی عوام کیلئے کچھ کر سکیں۔ اُنہوں نے کہاکہ مجھے اپنی پولیس پر فخر ہے عوام بلا خوف و خطر تھانوں میں اپنے مسائل کے حل کیلئے جا سکتے ہیں۔

 اُنہوں نے مزید کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں امن و امان بہتر ہوا ہے اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال مزید بہتر کرنے کیلئے پولیس کے ساتھ تمام تعاون یقینی بنا رہی ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کی جغرافیائی ساخت پورے ملک کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس صوبے میں امن و امان ہو گا تو پورے ملک میں امن ہو گا۔ مشکلات اور چیلنجز پر قابو پانے کیلئے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی شکایات دو ر کرنے کیلئے پبلک سیفٹی کمیشن پر بھی کا م یقینی بنایا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس حوالے سے پولیس کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کا انضمام یقینا ایک بڑا مشکل مرحلہ تھا جس کو دوسرے صوبائی محکموں کے ساتھ ساتھ پولیس کے تعاون سے صوبائی حکومت نے کامیاب بنایا۔ 28 ہزار لیویز اور خاصا دار فورس کو باقاعدہ طور پر پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔

 اس مقصدکیلئے صوبائی اسمبلی نے باقاعدہ ایکٹ بھی پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان لیویز اور خاصا دار فورس کو پولیس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جارہی ہے جبکہ قبائلی اضلاع سے مزید نوجوان بھی پولیس میں بھرتی کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے نئے زیر تربیت پولیس افسران کو پاکستان پولیس سروسز میں شامل ہونے پر مبارکباد دی اور اُمید ظاہر کی کہ نئے زیر تربیت افسران پوری جانفشانی سے اپنے فرائض نبھائیں گے۔ ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی لاہور نے پولیس میں مثبت اصلاحات متعارف کرانے پر صوبائی حکومت کو سراہا ہے۔ بعدازاں نیشنل پولیس اکیڈمی کی طرف سے وزیراعلیٰ کو شیلڈ پیش کی گئی جبکہ وزیراعلیٰ نے بھی پولیس گروپ میں نئے زیر تربیت افسران کو شیلڈ پیش کیں۔

Facebook Comments