77

مصنوعی گوشت مارکیٹ میں آنے کو تیار

لاہور ۔ ( آوازچترال نیوز )   انسان ہمیشہ نت نئے پراجیکٹ اور قدرت کی گتھیوں کو سلجھانے میں جتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر ایسا ہتھیار اس کے ہاتھ لگا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن کر رہ گئی ہے۔ اب خلااور فضا کا کنسپٹ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے اور آسمان کے پرتو بھی کھلتے جا رہے ہیں۔ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی بہت زیادہ حد تک آسان کر دی ہے۔اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہی نت نئے تجربے اور دریافتیں ہو رہی ہیں،اب سائنسدانوں نے اس کی مدد سے مصنوعی گوشت بھی تیار کر لیا ہے۔روسی ماہرین نے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کی جس کے ذریعے مصنوعی گوشت تیار کیا جائے گا اور یہ سپر مارکیٹ میں دستیاب بھی ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں خلا میں کیے جانے والے تجربے کے نتیجے میں خرگوش، مچھلی کے گوشت کی پیداوار تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے کی گئی تھی اور اب اسے زمین پر فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔ ایلف فارم کے سربراہ ڈیڈیئر ٹوبیا نے مصنوعی گوشت کے تجربے کے لیے خلیات فراہم کیے، اس سے قبل مصنوعی گوشت سے پہلا برگر ہالینڈ کے سائنسدان نے 2013 میں بنایا تھا۔اس کی لاگت بہت زیادہ بتائی گئی ہے، اس قسم کا کوئی بھی پروڈکٹ فروخت کے لیے دستیاب نہیں ہوسکا تھا۔گوشت کے نام کے حوالے سے ابھی بھی بات چیت جاری ہے، لیکن اس مصنوعی گوشت کو چکھنے کا کام ہوچکا ہے اور ماہرین کی خواہش ہے کہ جتنا جلد ہوسکے اسے مارکیٹ میں بھیجا جاسکے۔کیلی فورنیا کمپنی کے سربراہ جوش ٹیٹرک کے مطابق امید ہے کہ اسے اس سال مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔مگر لوگ یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ اسے کس قیمت پر فروخت کیا جائے گا، جس کے جواب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ سپر مارکیٹ کے شیلفوں میں تیار گوشت کی آمد مناسب قیمتوں میں ہوگی۔اس حوالے سے متعدد مبصرین کا خیال ہے کہ اس میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پیش آئے گی کیونکہ اس شعبے نے 2018 میں مجموعی طور پر 73 ملین ڈالر میں راغب کیا تھا۔

Facebook Comments