46

وزیراعظم عمران خان مولانافضل الرحمان اوردھرنے کے شرکاءسے مذاکرات پر رضامند، بڑی پیشکش کردی

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے،کسی نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئے گا،اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں،مدرسہ اصلاحات سمیت اہم ایشوز پر کوئی بات کرنا چاہے تو اعتراض نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں دھرنے کے شرکا سے سیاسی طور پر مذاکرات پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے رائے دی کہ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اعلان کردہ آزادی مارچ کا مسئلہ افہام وتفہیم سے حل ہوجانا چاہیے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اراکین نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا جے یو آئی (ف)سے مذاکرات کیلئے کوئی کمیٹی قائم کی گئی ہے؟ جس پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں مگر مذاکرات کا آپشن کھلا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے قانون توڑا تو قانون حرکت میں آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ اصلاحات سمیت اہم ایشوز پر کوئی بات کرنا چاہے تو اعتراض نہیں ہے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے دورہ چین پر ارکان کو اعتماد میں لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ میرا دورہ چین کامیاب رہا ہے، مقبوضہ کشمیر مسئلے پر چین ہمارے ساتھ ہے۔ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ ناجائز اور نااہل حکومت سے آزادی حاصل کرکے دم لے گا، تمام سیاسی اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ میں شریک ہونگی جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں،مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا گیا بلکہ کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے،ناجائز حکومت مارچ روکنے کے لیے آمرانہ حربے استعمال کررہی ہے،27اکتوبر کو آزادی کامارچ کا آغاز ہوگا راستہ روکنے کی کوشش کی تو راستہ کھولیں گے،،پارٹیوں کے فیصلے لیڈر کرتے ہیں اور نواز شریف نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ کردیاہے،، میں را کے ایجنڈے پر نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں۔جمعہ کو جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے چنیوٹ میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی مارچ ناجائز اور نااہل حکومت سے آزادی حاصل کرکے دم لے گا۔ تمام سیاسی اپوزیشن جماعتیں آزادی مارچ میں شریک ہونگیجس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا گیا بلکہ کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے۔ناجائز حکومت مارچ روکنے کے لیے آمرانہ حربے استعمال کررہی ہے پارٹیوں کے فیصلے لیڈر کرتے ہیں اور نواز شریف نے ہمارا ساتھ دینے کا فیصلہ اور اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بدترین م،عاشی بحران کا شکار بنادیا گیا ہے۔ تاجر سراپا احتجاج اور ڈاکٹر بلبلا رہے ہیں۔ آزادی مارچ کا ساتھ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے بھی دے رہے ہیں۔ چین ناراض ہے سی پیک منصوبہ رک گیا اور سفارتی کاری میں ہار چکے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر حکومت مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔نااہل حکومت کشمیر کا سودا کرچکی ہے۔سفارتی کاری کی ناکامی کے بعد اقوام متحد ہ اجلاس میں ایٹمی جنگ کی دھمکی دینا دوسری بے وقوفی ہے۔انڈیا کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دیکر ایٹمی دھماکے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ سی پیک منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے اتھارٹی بنائی جارہی ہے۔میں را کے ایجنڈے پر نہیں پاکستان کے ایجنڈے پر کام کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 27اکتوبر کو آزادی کامارچ کا آغاز ہوگا راستہ روکنے کی کوشش کی تو راستہ کھولیں گے۔ پی ٹی آئی کا دھرنا جائز حکومت کے خلاف جبکہ ہمارا مارچ ناجائز حکومت کے خلاف ہے۔ اسلام آباد میں ڈینگی کے سوال پر کہا ہمارا مسئلہ ڈینگی نہیں ڈینگا ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالقوی اور طاہر محمود اشرفی کے بیان پرجواب دینے سے انکار کردیا۔

Facebook Comments