بھارت کا اگلاحدف اسلام آباد ہے اگر بقا ء کی جنگ سری نگر میں نہ لڑی تو اسلام آباد میں لڑنی پڑے گی۔ سینیٹرسراج الحق | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / بھارت کا اگلاحدف اسلام آباد ہے اگر بقا ء کی جنگ سری نگر میں نہ لڑی تو اسلام آباد میں لڑنی پڑے گی۔ سینیٹرسراج الحق

بھارت کا اگلاحدف اسلام آباد ہے اگر بقا ء کی جنگ سری نگر میں نہ لڑی تو اسلام آباد میں لڑنی پڑے گی۔ سینیٹرسراج الحق

اسلام آباد(آوازچترال نیوز)امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ جہاد کا اعلان حکومت کا کام ہے یہ خود کام نہیں کرتی اورغداری کے فتوے بھی جاری کررہی ہے، بھارت کا اگلاحدف اسلام آباد ہے اگر بقا ء کی جنگ سری نگر میں نہ لڑی تو اسلام آباد میں لڑنی پڑے گی،پاکستان مشکل میں ہے اور حکومت کنفیوژن کا شکار ہے،قوم کو بہادر لیڈر کی ضرورت ہے پاکستان کے بااختیار لوگوں نے کشمیر کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا ہے،کشمیری پاکستان کی طرف اور پاکستان امریکہ کی طرف دیکھ رہاہے۔حریت رہنماؤں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کاپاکستانی سیاسی جماعتوں،اداروں پر اعتماد کم اور ٹوٹتا جارہاہے مظاہروں سے باہر نکل کرکے عملی اقدامات کریں۔ کانفرنسوں سیمینار اور سیاسی حکمت عملی سے کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہونے والی یکجہتی کشمیر ملٹی پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحب زادہ ابو الخیر محمد زبیر، لیاقت بلوچ، تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلی خرم نواز گنڈا پور، اسلامی تحریک کے سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، تنظیم اسلامی کے سربراہ حافظ عاکف سعید، جمعیت اتحاد علمائے پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک، اتحاد علمائے پاکستان کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری،جمعیت اہل حدیث کے سربراہ مولانا عبد الغفار روپڑی، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، ہدی الہادی کے صدر رضیت باللہ، کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید فیض نقشبندی، تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل، جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر صفدر گیلانی، علامہ زبیر احمد ظہیر صدر جمہوری اتحاد، جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم، حریت کانفرنس کے راہنما سید عبداللہ گیلانی، نور الباری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ مسئلہ کشمیرپر حکمران بڑے حادثے کاانتظار کررہے ہیں کیا80لاکھ تابوت کا انتظار کررہے ہیں معیشت بھی مزید خراب ہو رہی ہے ظلم یہ کیا کہ 5اگست کے بعد انہوں نے قوم کو ایک کرنے کے بجائے اور قومی وحدت کوپارہ پارہ کیا ہے۔ تمام جماعتوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر ہم ایک ہیں مگر اس کے باوجود کوئی اے پی سی نہیں بلائی گئی۔ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ قوم مسئلہ کشمیر پر ایک پیج پر ہو۔ 27ستمبر کے بعد میڈیا پر کشمیر نظر نہیں آرہاہے میڈیا بھی آزاد نہیں ہے 370آرٹیکل کے بعد کشمیر کی مخصوص حیثیت ختم ہوگئی ہے انہوں نے کہاکہ بھارت نے تمام عالمی معاہدے اور باہمی معائدے ختم کردیئے ہیں اس کے باوجودپاکستانی فوج کس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر میں داخل نہیں ہورہی ہے،اب شہدا کے لوحقین ہم سے سوال کررہے ہیں۔میں نے وزیراعظم سے سوال کیاکہ شہیداکے لواحقین کو کشمیرجلسے میں لے کرجائیں مگروزیراعظم نے فنکاروں کو بلایا اور کسی شہید کے والد کو نہیں بلایا۔ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اگر کشمیر کے لیے رسک نہیں لیں گے تو کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔ اب ڈاکٹر ہویاتاجر آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں۔ حکمران اس پر مطمئن ہیں کہ ان کی گاڑی پر جھنڈا لگا ہواہے۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر ایک ہیں وزیراعظم آزادکشمیر کو پورے کشمیر کا وزیر اعظم بناکردنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور آزادکشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کو نمائندگی دی جائے۔اقوم متحدہ کے سامنے کشمیر اسمبلی کا اجلاس کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں ریڈ کراس اور امن فورس کو تعینات کیا جائے عوامی سطح پر تحریک کی اشد ضرورت ہے۔کشمیر کے مسئلہ کو فریج میں رکھنے کی سازش ہورہی ہے 16اکتوبر کو اسلام آباد میں خواتین کا آزادی کشمیر مارچ ہوگا۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی بدترین دہشت گردی کررہا ہے بچے اور بچیوں کو اٹھا کے لے جایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی اور مسلمانوں کا فوجی اتحاد کوئی کردار ادا نہیں کررہا ہم ٹرمپ سے امید کررہے ہیں وہ مودی کو سلامی دے رہاہے۔ حکومت سے اپیل ہے کہ جہاد کا اعلان کرے حکومت عملی اقدامات اٹھائے وزیر اعظم کی باتیں کشمیریوں کے خلاف جارہی ہیں کشمیر کا کوئی سفارتی حل نہیں ہے 70سال سے ہم نے یہ دیکھ لیاہے مسئلہ کشمیر کاصرف عسکری حل ہے اس طرف جانا ہوگا۔کشمیریوں کو آزادی کے لیے ہتھیار اٹھانا ہوگا جو عالمی قوانین کے مطابق ہے دو ماہ سے زائد ہوگئے مگر ابھی تک کرفیو نہیں اٹھایا گیاہے۔عبداللہ گیلانی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کودو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہم نے بھارت کو کوئی جواب نہیں دیا۔عمران خان کی تقریر کا بھی کوئی اثر نہیں ہواہے۔کشمیریوں کا اپنا کیس دینا میں خود پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔جنگیں قومی مفاد کے لیے ضروری ہوتی ہیں آج اس کی ضرورت ہے۔مولانا عبدالمالک نے کہاکہ جہاد کا اعلان کیا جائے قرآن وسنت پر عمل کیاجائے۔حافظ عاکف سعید امیر تنظیم اسلامی نے کہاکہ اللہ کو ناراض کرنے کے تمام کام ہو کر رہے ہیں اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہے ہم کشمیریوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ہیں جب اللہ کا نظام پاکستان میں نافذ کریں گے اس کے بعد ہم کشمیریوں کی مدد کرسکیں گے۔شعیہ علما کونسل کے رہنما علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کشمیر پر عالمی برادری کی خاموشی ہے مسلم حکمرانوں اچھی تقریریں ہی کررہے ہیں مسلم امہ بھی ہمارے ساتھ کھڑی نہیں ہورہی یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ٹرمپ نے فلسطین کے خلاف سازش کی ہے وہ کشمیر پر ثالثی کے نام پر بھارت کا یجنڈا مسلط کررہاہے امریکہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی سرپرستی کررہاہے۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ 70سالوں میں جن پالیسوں پر عمل کیا گیا اور بھارت کو مکمل سپورٹ دی گئی ہمیں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت دینا چاہیے۔ضیا اللہ شاہ مرکزی رہنما ملی یکجہتی کونسل نے کہاکہ کشمیر پاکستان کہ شہ رگ ہے اس کے لیے ہرممکن اقدام اٹھائیں گے۔مولانا عبدالغفار روپڑی نے کہاکہ وزیراعظم نے تقریر اچھی کی مگر کسی ملک نے حمایت نہیں کی کشمیریوں کی مدد کے لیے طاقت کااستعمال کیا جائے اب طاقت استعمال نہ ہوگی تو کب ہوگی۔امیر مرکزی علما کونسل زاہد الرشیدی نے کہاکہ کشمیریوں کے لیے سب ایک ہیں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

error: Content is protected !!