خیبر پختونخوا کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی) بل منظور | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / خیبر پختونخوا کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی) بل منظور

خیبر پختونخوا کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی) بل منظور

پشاور۔(آوازچترال رپورٹ)خیبرپختونخوا اسمبلی نے خیبرپختونخواکوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی)بل 2019 ء کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت صوبہ میں سول مقدمات کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے دہرا عدالتی نظام قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت پارٹیوں کے درمیان تنازعات کونمٹانے کے لیے دیگر طریقہ کار کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عدالتوں اور مقدمہ لڑنے والوں کے اخراجات اور وقت بچانے کی کوشش کی جائے گی،اس بل کے تحت پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے سول مقدمات نمٹانے کے لیے جو طریقہ کاروضع کیاگیاہے۔ اس کے مطابق اگر مقدمہ 5 کروڑ روپے سے کم مالیت کینوعیت کا ہو تو ہائی کورٹ کے مجوزہ طریقہ کار کی رو سے مقدمہ کو سول جج کی عدالت میں دائر کیاجائے گا جبکہ اگر پانچ کروڑ سے زائد ہوتو ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر ہوگا،ہر مقدمہ کی تشکیل ایک شکایت کے داخل دفتر ہونے یا مجوزہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی،شکایت کے درج ہونے کے بعد یہ عدالت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنی تسلی کرے کہ وہ جرم اور اس کی حدود وقیوم کیا ہے اورکیا یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں اوراگر عدالت مطمئن نہ ہوتو اس صورت میں وجوہات تحریر کرے گی،مدعی سات دنون میں اپنے مجوزہ تجاویز عدالت میں مقررہ رقم کے ساتھ جمع کراسکے گا،عدالت اگر اپنے طور پر ضرور ی سمجھے تو شنوائی کے بغیر مسائل کی فہرست بناسکے گی اور کوئی بھی پارٹی سات دنوں کے اندر اپنے مسائل میں جدت کے لیے درخواست جمع کراسکے گا۔ جن پر پندرہ دنوں کے اندر کاروائی کی جاسکے گی،مسائل کی فہرست تیار کرنے کے پندرہ دنوں کے اندر عدالت دونوں پارٹیوں کو گواہوں کی فہرست جمع کرانے کیلیے کہے گی جس میں ناکامی کی صورت میں عدالت جرمانے کے ساتھ دوبارہ پندرہ دنوں کا وقت دے سکے گی،عدالت پارٹیوں کے دلائل کے بعد پندرہ دنوں کے اندر حتمی دلائل کی شنوائی کے لیے پندرہ دنوں میں تاریخ مقرر کرے گی،عدالت سمن بھیجنے کے لیے تمام ذرائع کا استعمال کریگی،سول کورٹ یا سیشن کورٹ کے فیصلے کے تیس دنوں کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جسے ہائی کورٹے نوے دنوں میں نمٹائے گی،بنیادی مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت فریقین میں اضافہ اور تبدیلی بیانات،مقدمہ میں ترامیم،معاملات میں تبدیلی،شکایات کی عدم منظوری اور مقدمات میں حکم امتناعی کے لی دی جانے والی درخواستوں کی سماعت کریگی جبکہ دیگر درخواستیں اگر جمع ہوں تو یہ مفاہمتی درخواستیں تصور ہونگی۔ جن کا فیصلہ مفاہمتی درخواستوں کی سماعت کرنے والی عدالت کرے گی،مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیم شدہ)2019 ء کے آغاز سے قبل ہونیوالی تمام کاروائیاں،مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908 ء کی دفعات کے مطابق چلائی جانیوالی تصور ہونگی جو مذکورہ ترامیم شدہ ایکٹ سے قبل رائج تھا۔مذکورہ قانون کے مطابق دو جج ایک ہی مقدمے کی بیک وقت سماعت کرینگے،ایک جج مرکزی مقدمے جبکہ دوسرامختلف النواع درخواستیں یعنی حکم امتناعی کی درخواستوں پر کاروائی کرے گا جس سے دونوں کاروائیاں ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہونگے اورمرکزی مقدمے میں بغیر کسی التواء کے پیش رفت ہوگی۔ اسمبلی نے کوڈ آف کریمینل پروسیجر 1898 ء کی شق 14 میں ترمیم کرتے ہوئے الگ ترمیمی بل کی بھی منظوری دی جس میں پرائس کنٹرول کے ساتھ جنگل،کانوں ومعدنیات،خوراک میں ملاواٹ،فوڈ سیفٹی،سرکاری جگہوں پر قبضہ،نالیاں،نہر اور نعکاسی گاڑیاں،میونسپل سروس اوربلڈنگ کنٹرول کے معاملات بھی اس میں شامل کرد یئے گئے ہیں جبکہ قانونی وراثت کے لیے نادرا کی جانب سے مرحوم کے ورثاء سند وراثت اجراء سے متعلق بل بھی منظور کرلیاگیا۔

error: Content is protected !!