خیبر پختونخو اسمبلی میں ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز بل منظور | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / خیبر پختونخو اسمبلی میں ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز بل منظور

خیبر پختونخو اسمبلی میں ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز بل منظور

پشاور(آوازچترال نیوز)۔خیبرپختونخوااسمبلی نے صوبہ بھر میں ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام کے حوالہ سے قانون ساز ی کرتے ہوئے بل کی منظور ی دے دی بل میں اپوزیشن کی تجویز کردہ بعض ترامیم بھی شامل کردیں،اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے کنٹریکٹ اورڈیلی ویجز ملازمین کومستقل کرنے کے بل کی بھی منظوری دی گئی جبکہ خواتین کو حق وراثت وملکیت دلانے سے متعلق بل کوپیش کیاگیا،صوبائی اسمبلی کی جانب سے منظورکردہ ریجنل وضلعی ہیلتھ اتھارٹیز بل کے مطابق وزیرصحت کی سربراہی میں پالیسی بورڈقائم کیاجائے گا۔ ڈویڑنل سطح پرریجنل اتھارٹیز قائم کی جائیں گی جن کے سربراہ کم ازکم دس سالہ تجربہ رکھنے والے ڈاکٹرہونگے،ریجنل ہیلتھ اتھارٹیزکاسربراہ وزیرصحت ہوگاجبکہ دیگرارکان کا انتخاب سرچ کمیٹی کرے گی،ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز سرکاری پالیسی کے مطابق بھرتیاں قوردیگرفرائض انجام دینگی،ہرضلع کی سطح پر ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی،ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کے سربراہ چیف ایگزیکٹو افسران کہلا?یں گے جن کاتقرر متعلقہ ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کرینگی،وزیرصحت کوضلعی ہیتلتھ اتھارٹیز کوتحلیل کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔ اجلاس نے 1997 اور2014 میں محکمہ صحت میں بھرتی کنٹریکٹ وڈیلی ویجز ملازمین کومستقل کرنے کی بھی منظوری دی جوماس ٹرانزٹ وٹرانسپورٹ محکمہ کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں۔اسمبلی میں وزیر قانون سلطان محمد خان کی جانب سے خواتین کوجا?یدادمیں حق وراثت وملکیت دلانے سے متعلق ببل بھی ایوان میں پیش کیاگیا جس کے مطابق صوبائی خاتون محتسب کو ایسی شکایات پر کاروائی اور ازالے اختیارات تفویض کیے جارہے ہیں،خواتین کو ملازمت کے مقامات پر ہراساں ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے مقررہ صوبائی خاتون محتسب کواختیار دیاگیا ہے کہ وہ سول سوسائٹی کی شکایت پر ازخود یا پھر کسی خاتون کی جانب سے انھیں جائیداد کی ملکیت نہ دینے کی شکایت کرسکیں گی،مذکورہ شکایت موصول ہونے پر محتسب متعلقہ ڈپٹی کمشنرکے ذریعے رپورٹ مانگیں گی اور رپورٹ آنے پر وہ بشمول ڈپٹی کمشنر کسی بھی سرکاری محکمہ کواس ضمن میں متاثرہ خاتون کو جائیداد کی ملکیت کا حق دلوانے کے فیصلے پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کرسکیں گی،ایسی خواتین جن کے حق میں فیصلہ دیاجائے۔ اسے اس کی جائیداد کی ملکیت نہ ملنے کے عرصہ کا کرایہ بھی ادا کیاجائے گا،محتسب اگر مناسب سمجھے تو ایسے کسی کیس کو مزید کاروائی کے لیے سول جج کی عدالت میں ریفرنس کی صورت میں بھی بھیج سکے گی جبکہ محتسب کے فیصلے کے خلاف 45 دنوں کے اندر پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جاسکے گا۔ریجنل وضلعی ہیلتھ اتھارٹیزکے قیام سے متعلق بل کی منظوری کے بارے میں صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے ایوان میں کہاکہ بل کی منظوری کے بعد میرے اختیارات ختم ہو جائے گے، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرا رہا ہوں، ہسپتالوں کو بااحتیار بنا رہا ہوں، عوام کو اعلی صحت کی سہولیات کی فراہمی کی طرف یہ انقلابی قدم ہے۔ بل کے تحت ہسپتالوں کو سالانہ ون لائن بجٹ دے رہے ہیں،سیاسی مداخلت کے خاتمے سے ہی ترقی کے اہداف حاصل کیہے جا سکتے ہیں۔وزیرصحت ڈاکٹر ہشام خان نے ڈاکٹروں کے احتجاج اورہڑتال سے متعلق کہاکہ دو ماہ سے ڈاکٹروں سے مزاکرات کررہے ہیں، ڈاکٹرز بات ماننے کو تیار نہیں تاہم سپیکر حکومت کو ڈاکٹرز سے مزاکرات اورنرمی کرنے کی ہدایت کی اورکہاکہ ڈاکٹروں سے دوبارہ مزاکرات شروع کیے جائیں۔

error: Content is protected !!