داد بیداد..دو بڑی خبریں....ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / داد بیداد..دو بڑی خبریں….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

داد بیداد..دو بڑی خبریں….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

ایک ساتھ دو بڑی خبریں اخبارات کی زینت بن چکی ہیں پہلی خبر یہ ہے کہ سندھ کے ضلع بدین میں گدھوں کی منڈی لگ گئی یہ ایشیاء میں گدھوں کی سب سے بڑی منڈی تھی جس میں ہزاروں گدھے لائے گئے ان میں مختلف نسلوں کے گدھے تھے بعض گدھوں کو جسا مت، خوبصورتی اور پھر تی کی وجہ سے مختلف نا م دیئے گئے تھے مثلاً راکٹ نا م کا گدھا 20لا کھ روپے کا تھا طو فان نام کا گدھا 10لاکھ روپے میں فروخت ہوا ٹائیگر نام کا گدھا 3لاکھ روپے میں بک گیا اخبار پڑھ کر تیسری جما عت میں پڑھنے والے بچے نے کہا ”یہ خوش قسمت گدھے تھے“ استاد نے بچے کو ٹوکتے ہوئے سمجھا یا کہ اس قیمت میں وہی چارہ ملے گا جو پہلے ملتا تھا خوش قسمت گدھا نہیں اس کا ما لک خو ش قسمت ہو تا ہے جو زندہ گدھے کو بیچ کر دام کھرے کر لیتا ہے ورنہ گدھا مر گیا تو دو پیسے کا نہیں رہتا ہما ری رگ ظرافت پھڑک اُٹھی تو ہم نے گرہ لگائی کہ پا کستان میں مرا ہوا گدھا کسی کام کا نہیں رہتا چین میں اس کے گوشت کی کڑا ہی بنتی ہے اس کا گوشت بار بی کیو میں استعمال ہوتا ہے استا ذ بولا پنجاب میں بھی یہی چلن ہے اس لئے گدھوں کی منڈی پنجاب میں نہیں سندھ میں لگی ویسے تفنن بر طرف پنجاب میں گدھوں کے بڑے بڑے میلے لگتے ہیں لا ہور کا چھا نگا مانگا گدھوں کے میلے کے لئے مشہور ہے ایک زمانہ تھا جب گدھوں کو گیدڑ کا نا م دیا گیا تھا اور ”مڈ نا ئٹ جیکا ل“ کے خو ب صورت نا م سے گدھوں کا میلہ لگا یا گیا تھا چھا نگا مانگا کے علا وہ اسلام آباد میں بھی اس طرح کے میلے لگتے ہیں مگر ان میلوں میں گدھوں کو ”گھوڑا“ کہا جا تا ہے اور میلے کو ہارس ٹریڈنگ کا نام دیا جا تا ہے اس حوالے سے ”بدین“ کو خواہ مخواہ شہرت مل رہی ہے ہما را ہر گدھا ٹائیگر، طوفان اور راکٹ سے کم نہیں۔ دوسری خبر بھی پہلی خبر کے برا بر اہمیت کی حا مل ہے خبر یہ ہے کہ امریکی نشر یاتی ادارے سی این این (CNN) نے صدر ڈونلڈ ٹر مپ کے 22بڑے بڑے جھو ٹ پکڑ لئے ہیں جو وہ الیکشن مہم کے دوران اور اقتدار میں آنے کے بعد بولتے رہے مثلاً ان کی یہ بات جھوٹ ثا بت ہوئی کہ تیل اور گیس کی پیدا وار کے لحا ظ سے امریکہ کو دنیا کا نمبر ایک ملک بنا یا گیا اس طرح میکسیکو کی سر حد پر میلوں طویل دیوار بنا نا بھی جھوٹا دعویٰ نکلاتارکین وطن خصوصاً ایشیائی با شندوں کی بے روز گاری میں کمی لا نے کا دعویٰ بھی جھوٹا ثا بت ہوا خواتین کو روز گار دینے کا دعویٰ بھی جھوٹا تھا پیدا واری صنعت میں 6لاکھ نو کریاں پیدا کرنے کا دعویٰ بھی جھوٹ کا پلندہ ثا بت ہوا چینی معیشت کو شکست دینے کا دعویٰ اور ایران کو ایٹمی معا ہدے کے تحت ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ بھی جھوٹا وعدہ نکلا اس طرح 15وعدے اور بھی تھے چونکہ قومی غیر ت کا سوال ہے اس لئے 22جھوٹے وعدوں کا ذکر ایک ساتھ نہیں ہوتا بقول شاعر ”اور کھل جائینگے دو چار ملا قا توں کے بعد“اپنے اپنے کلچر اور اپنی اپنی ثقا فت کی بات ہے امریکی جس بات کو جھوٹا کہتے ہیں ہم اس کو سیا ست کہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں سیا ست اور جھوٹ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں ور نہ ہمارے سیا ستدا نوں کے جھوٹ اگر پکڑے جائیں تو ان کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لا کھوں اور کروڑوں تک پہنچتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے نشر یاتی ادارے ”جھوٹ شماری“ نہیں کرتے آخر حد ہو تی ہے کب تک شمار کرینگے 6لاکھ نو کریوں کے وعدے پر یا د آیا ہمارے ایک دبنگ اور ہر دلعزیز لیڈر نے نو جوا نوں کو ایک کروڑ نو کریاں دینے کا وعدہ کیا تھا پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی حکومت آگئی حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے بوڑھوں کے لئے پنشن کی عمر میں 3سال اور بڑھا پے سے پہلے پنشن لینے وا لوں کے لئے کم سے کم سر وس کی مدت میں 5سال کا اضا فہ کرکے نو جوانوں پر نو کریوں کے تمام دروا زے بند کر دیے مگر ہماری سیا سی لغت میں اس کو جھوٹ نہیں کہا جا تا اس کے لئے ڈرائیوروں کی ایک مشہور اصطلاح U-Trunاستعمال کی جا تی ہے اور اقوال زریں میں اس مقو لے کا اضا فہ کیا گیا ہے کہ ”جو لیڈر یو ٹرن نہیں لیتا وہ بڑا لیڈر نہیں بن سکتا“ یہاں اگر کوئی جھوٹ پکڑے یا جھوٹ شمار کر نے کا ارا دہ کرے بھی تو ایسی باتیں ”جھوٹ“ میں شمار نہیں ہوتیں ان کو سیا سی بیان بھی کہا جا تا ہے لیڈر کا وژن بھی قرار دیا جا تا ہے چنا نچہ یہاں ہٹلر اور گوبلز کے ریکارڈ کو بھی مات دیدی گئی ہے لیکن مجا ل ہے کوئی ایسی با توں کو جھوٹ کہے یا جھوٹ میں شمار کرے عر بی کا مقولہ ہے ”لو گ اپنے بادشاہ کے طریقے پر چلتے ہیں“ امریکی صدر ڈو نلڈ ٹر مپ اس وقت غلا م ملکوں پر مشتمل نصف دنیا کا باد شاہ ہے اگر نصف دنیا کا باد شاہ 22جھوٹ بولے گا تو اس کی رعا یا 10گنا زیا دہ جھوٹ بولے گی اگر کوئی اپنی سہو لت اور میڈیا کی آسا نی کے لئے جھوٹ کو سیا ست یا یوٹرن کہتا ہے تو یہ اس کا حق بنتا ہے خواجہ حیدر علی آتش کی بات یا د رکھنے کے قابل ہے ؎ سن کہ جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غا ئبانہ کیا

error: Content is protected !!