ستمبر 2018میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 78ڈالر فی بیرل تھی اب کم ہو کر 55ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / ستمبر 2018میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 78ڈالر فی بیرل تھی اب کم ہو کر 55ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے

ستمبر 2018میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 78ڈالر فی بیرل تھی اب کم ہو کر 55ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ ایک سال کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں تقریبا 29فیصد کمی واقع ہو چکی ہے لیکن موجودہ حکومت نے یکم ستمبر 2019سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو کمی کی ہے وہ ناکافی ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پورا فائدہ عوام کو منتقل کرے تاکہ مہنگائی کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام کو ریلیف مہیا ہو اور کاروبار کی لاگت کم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو بہتر

فروغ ملے۔انہوں نے کہا کہ 2019کے دوران حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا کیونکہ پہلے جون میں قیمتیں بڑھائی گئیں اور پھر اگست میں قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ستمبر 2018میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا 78ڈالر فی بیرل تھی جو اب کم ہو کر 55ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے اس طرح عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ایک سال میں تقریبا 29فیصد کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے برعکس حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چند فیصد کمی کی ہے جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔احمد حسن مغل نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ٹیکس ریونیو اکھٹا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنایا ہوا ہے جو بلا جواز ہے کیونکہ اس سے عوام پر غیر ضروری بوجھ پڑا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر 17فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ فی لیٹر پیٹرول پر 14روپے اور فی لیٹر ڈیزل پر 18روپے بطور پیٹرولیم لیوی بھی وصول کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات کا عوام اور تاجر برادری کو کتنا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں بھی مناسب کمی کرے تا کہ کاروبار کی لاگت کم ہو اور مہنگائی کم ہونے سے عوام کی مشکلات کم ہوں۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھےتو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس وصول کرنے پر اس وقت کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے لیکن اب اقتدار میں آ کر وہ بھی اسی روش پر چل رہے ہیں جس سے کاروباری برادری اور عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول گاڑیوں کے علاوہ بعض صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے لہذا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ میں کمی کے تناسب سے کم کرنے سے پیداواری، زرعی اور ٹرانسپورٹ شعبوں کیلئے کاروبار کی لاگت کم ہو گی اور اور عوام کو غیر ضروری مہنگائی سے چھٹکارہ حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کے علاوہ بجلی و گیس کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کیا ہے جس وجہ سے پاکستان میں مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور کاروباری سرگرمیاں بہت متاثر ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت معیشت کا ہر شعبہ مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں مزید کمی کرنے سے ہماری مصنوعات مزید سستی ہوں گی جس سے برآمدات میں خاطرخواہ بہتری آئے گی اور معیشت مستحکم ہو گی لہذا انہوں نے پر زور مطالبہ کیا کہ حکومت عوام و معیشت کوبہتر ریلیف فراہم کرنے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرے۔

error: Content is protected !!