حکومت اسی کی ہوتی ہے جو بہتر ہو اور فوج بہتر ہے | Awaz-e-Chitral

Home / تازہ ترین / حکومت اسی کی ہوتی ہے جو بہتر ہو اور فوج بہتر ہے

حکومت اسی کی ہوتی ہے جو بہتر ہو اور فوج بہتر ہے

اسلام آباد ( آوازچترال نیوز) : وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہپاکستان تحریک انصاف کے لیے اپوزیشن نہیں اندرونی گورننس اصل چیلنج ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ جو ہو رہا ہے آپ اُس سے اتفاق کریں، کئی باتوں پر آپس میں اختلاف نہیں ہوتا لیکن وزیراعظم عمران خان باعث احترام ہیں ، اُن کا حکم ماننا پڑتا ہے کیونکہ ان سے ایک لیڈر شپ کا تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ بزدار صاحب کو صرف میں نہیں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت نہیں جانتی۔ انہیں ابھی وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔ اُن کی کارکردگی کا ایک سال میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسی کی ہوتی ہے جو بہتر ہو اور فوج بہتر ہے۔اس وقت حکومت اور فوج کے مابین تمام معاملات پر کافی قریبی کوآرڈینیشن ہے۔   لیکن سول اداروں کا کوئی حال نہیں ہے، جس ادارے کو ہاتھ لگائیں وہی تباہ و برباد ہے۔ ادارے ٹھیک ہونے تک سول ملٹری تعلق برابر کا نہیں ہو گا۔ حکومت کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ ہر ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے۔ عدلیہ میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت زرداری صاحب یا نواز شریف کی صرف ایک ہی سیاست ہے کہ وہ اپنی سیاست اپنے اپنے جانشینوں کو دے جائیں۔ اب اُن کے جو بچے ہیں، مریم ہے ، بلاول ہے ، انہوں نے زندگی میں ایک دن بھی کوئی کام نہیں کیا۔وہ آتے ہی اپنی اپنی پارٹیوں کے چئیرمین بن گئے ہیں۔لوگوں کی ہمدردی اُن کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا یہ خیال ہے کہ وہ مدرسے کے بچوں کے بل پر اسلام آباد پر قبضہ کر لیں تو یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ اگر آپ تحریک لبیک کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تو پھر مولانا فضل الرحمان کو کیسے اجازت دی جا سکتی ہے؟ چھ چیزیں ہیں جو میرے خیال میں حکومت کی گورننس کا تعین کرتی ہیں۔اُس میں خارجہ پالیسی ، معاشی پالیسی ،لاء اینڈ آرڈر ، ایجوکیشن ، صحت اور میونسپل سروسز شامل ہیں۔ ان میں سے وفاقی حکومت کے پاس دو صرف دو چیزیں ہیں جن میں خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی ہے۔ باقی چار چیزیں صوبوں کے پاس ہیں۔ اب صوبائی حکومت کی کارکردگی اس بات کا تعین کرے گی کہ ہماری گورننس اچھی ہے یا بُری۔ تین صوبوں میں ہماری حکومت ہے۔جب لوگ کہتے ہیں کہ ہم گورننس سے مطمئن نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ لوگ وزیراعلیٰ سے مطمئن نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں وزیراعلیٰ ضرورت سے زیادہ طاقتور ہے۔ وزیراعلیٰ کے پاس ڈکٹیٹر جیسی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہئیے کہ چیف سیکرٹری کا عہدہ ختم کر کے وزرا کو طاقتور بنائیں۔ساری پاور وزیراعلیٰ کے پاس ہے اور بیوروکریسی کی ساری پاور چیف سیکرٹری کے پاس ہے۔باقی سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہوتے ہیں۔ جب تک وزیراعلیٰ کے اختیارات کو صحیح نہیں کیا جائے گا تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جو لوگ نمایاں ہوتے ہیں اور زیادہ نظر آتے ہیں اُن کے خلاف سازشیں زیادہ ہوتی ہیں۔ جنگ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت جو صورتحال ہے اُس میں بھارت اپنے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا سوچ رہا ہے ، اور اس وقت کافی مخصوص حالات ہیں۔ نیب کی کارروائیوں پر اُن کا کہناتھا کہ میرا نُکتہ نظر یہ ہے کہ قانون ایسا ہونا چاہئیے کہ کوئی بچ نہ سکے پھر چاہے وہ سیاستدان ہو یا پھر بیوروکریٹ یا پھر بزنس مین ہو۔ مخصوص طبقوں کے لیے قانون کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔

error: Content is protected !!