57

آٹے کی قیمت میں پھر سے اضافہ

لاہور۔ ( آوازچترال نیوز)   غریب آدمی کو سب سے زیادہ فکر آٹے کی ہوتی ہے کہ گھر میں روٹی موجود ہو تو روکھی سوکھی کھا کر گزارا کیا جا سکتا ہے۔قارئین شاید آپ کو یقین نہ آئے ہمارے وطن میں کئی ایسے لوگ ہیں جو سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھاتے ہیں،سبز مرچ کے ساتھ نوالے لیتے ہیں اور پیاز کے ٹکڑوں کے ساتھ باسی روٹی کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔گندم ایسی چیز ہے جو پیٹ بھرنے کے لیے کسی بھی اور اناج کی نسبت زیادہ طاقت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ گندم ہر گھر کی ضرورت ہے۔مگر موجودہ حکومت میں گندم آئے دن مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے جس وجہ سے آٹے کی قیمت بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے صوبائی حکام کو ضروریات کی تمام اشیا کی قیمتوں میں استحکام سے متعلق دی گئیں ہدایات کے بعد آٹے کی قیمتوں میں 2 روپے فی کلو اضافہ کردیاگیا ہے۔   15 اگست کے بعد سے یہ تیسری مرتبہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس سے قبل یہ اضافہ 15 اگست، پھر 22 اگست کو کیا گیا تھا۔صوبائی حکام کی مداخلت نہ ہونے کی وجہ سے سندھ ملرز نے آٹے کی قیمت میں اپریل سے نویں مرتبہ اضافہ کیا اور اس کی وجہ گندم کی قیمت میں اضافہ بتایا گیا۔اپریل سے اب تک صارفین نے آٹے کی قیمت میں 11 روپے فی کلو اضافہ دیکھا۔ملوں سے باہر آنے والے 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت، جو اپریل کے ماہ میں 340 تھی، اب 450 روپے کی ہوگئی ہے۔چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) سندھ زون، محمد جاوید یوسف کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں 100 کلو گندم کا تھیلا 4 ہزار روپے کا ملتا ہے جو چند روز قبل ہی 3900 روپے کا تھا جبکہ اپریل میں اس کی قیمت 3 ہزار روپے تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں نے سندھ حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ گندم کے ذخیرے کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی تو سنگین آٹے کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب میں نے سندھحکومت کے فوڈ ڈپارٹمنٹ کے سینئر حکام سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کورپوریشن (پاسکو) سے آٹے اور گندم کی قلت پر قابو پانے کے لیے 2 مرتبہ رابطہ کیا اور 5 لاکھ ٹن گندم جاری کرنے کا کہا ہے’۔

Facebook Comments